غازی آباد میں بچی عصمت دری کا ملزم میڈیکل جانچ میں نکلا بالغ: ذرائع– News18 Urdu

غازی آباد میں بچی عصمت دری کا ملزم میڈیکل جانچ میں نکلا بالغ: ذرائع

غازی آباد واقع ایک مدرسہ میں 10 سال کی بچی کے ساتھ ہوئی عصمت دری کے معاملہ کا ملزم میڈیکل جانچ میں بالغ نکلا ہے۔

Apr 30, 2018 11:49 PM IST | Updated on: Apr 30, 2018 11:49 PM IST

غازی آباد: غازی آباد واقع ایک مدرسہ میں 10 سال کی بچی کے ساتھ ہوئی عصمت دری کے معاملہ کا ملزم میڈیکل جانچ میں بالغ نکلا ہے۔ دراصل یہ ملزم خود کو 17 سال کا بتارہا تھا، جس کے بعد دہلی پولس کی کرائم برانچ نے اس کے صحیح عمر کی تحقیق کرنے کے لئے ہڈیوں کی جانچ کرائی تھی۔ کرائم برانچ کی یہ رپورٹ مل گئی ہے، جسے وہ منگل کو جونائل جسٹس بورڈ کے سامنے رکھے گی۔

ذرائع کے مطابق اس جانچ میں وہ نابالغ نہیں پایا گیا ہے۔ جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکے کی عمر 18 سال سے زیادہ ہے۔ ایسے میں پولس اس معاملے میں نئے طریقے سے چارج شیٹ بنا سکتی ہے۔

غازی آباد میں بچی عصمت دری کا ملزم میڈیکل جانچ میں نکلا بالغ: ذرائع

Loading...

پولیس میں درج شکایت کے مطابق ملزم لڑکے نے 10 سالہ بچی کو غازی آباد کے ایک مدرسے میں لے جاکر وہاں اس کے ساتھ عصمت دری کی۔ اس حادثہ کو لے کر مقامی لوگوں میں کافی ناراضگی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی جانچ کرائم برانچ کو سونپ دی گئی۔

اس سے قبل پولس نے اس معاملے میں پاکسو ایکٹ کے تحت ملزم مولوی کو بھی گرفتار کیا تھا۔ پولس نے بتایا کہ مولوی غلام شاہد مدرسہ میں 10 سالہ بچی کے ساتھ ہونے والی گندی حرکت کے بارے میں جانتا تھا، اسی وجہ سے اسے گرفتار کیا گیاہے۔

لڑکی کے والد نے 21 اپریل کو پولس کو اطلاع دی تھی کہ ان کی لڑکی بازار گئی تھی، لیکن وہاں سے لوٹی نہیں۔ جانچ کے دوران پولس اس مدرسہ پہنچی، جہاں سے متاثرہ بچی کو برآمد کیا گیا۔ وہیں پولس نے خود کو نابالغ بتارہے ملزم کو بچوں کے اصلاح گھر بھیج دیا تھا۔

 

 

Loading...