مسلمان خواتین کی تعلیم و تربیت پرتوجہ دیں، یہ ان کی اہم دینی و شرعی ذمہ داری : مولانا اسرارالحق– News18 Urdu

مسلمان خواتین کی تعلیم و تربیت پرتوجہ دیں، یہ ان کی اہم دینی و شرعی ذمہ داری : مولانا اسرارالحق

کولکاتہ۔ اسلام نے تعلیم و تربیت پرسب سے زیادہ زوردیاہے اوراس کی بنیادہی تعلیم و تعلم پر رکھی گئی،اس لیے مسلمانوں کی یہ اہم دینی و شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولادکوتعلیم کے حصول پرتوجہ دلائین۔

Dec 04, 2016 05:02 PM IST | Updated on: Dec 04, 2016 05:02 PM IST

کولکاتہ۔ اسلام نے تعلیم و تربیت پرسب سے زیادہ زوردیاہے اوراس کی بنیادہی تعلیم و تعلم پر رکھی گئی،اس لیے مسلمانوں کی یہ اہم دینی و شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولادکوتعلیم کے حصول پرتوجہ دلائیں اورخاص طورپرایسی تعلیم دلائی جائے جوہماری اولاد کے لیے دنیا وآخرت دونوں میں کامیابی اورنجات کا باعث ثابت ہو۔ ان خیالات کااظہارمعروف عالم دین اورممبرپارلیمنٹ مولانااسرارالحق قاسمی نے جامعہ حسنی للبنات،شیب پورہوڑہ کے سالانہ اجلاس میں خطاب کے دوران کیا۔ انھوں نے کہاکہ اسلام نے لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی زوردیاہے بلکہ لڑکیوں کی تعلیم کومزیداہمیت دیتے ہوئے ان لوگوں کے لیے کامیابی اورجنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے جواپنی بیٹیوں اوربہنوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں اوراس وقت تک ان کی کفالت کا ذمہ اٹھائیں جب تک ان کی شادی نہ ہوجائے۔

انھوں نے اسلام کے تصور تعلیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ دنیاکے کسی بھی مذہب میں حصول تعلیم کے تئیں اس قدراہتمام اورتاکید نہیں کی گئی ہے جتناکہ اسلام میں کی گئی ہے۔

مسلمان خواتین کی تعلیم و تربیت پرتوجہ دیں،  یہ ان کی اہم دینی و شرعی ذمہ داری : مولانا اسرارالحق

فائل فوٹو

مولاناقاسمی نے کہاکہ وہ لڑکیاں اور ان کے والدین قابل مبارک بادہیں جنھوں نے اپنی بچیوں کودین کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے منتخب کیااورانھیں ایک معیاری تعلیمی ادارے میں داخل کیا۔

انھوں نے کہاکہ اس وقت ملکی سطح پرجہاں مجوعی اعتبارسے مسلمانوں کوتعلیم پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے وہیں لڑکیوں کی تعلیم کابھی خاص اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پرمجلس تحفظ شریعت کے صدرمولاناابوطالب رحمانی نے کہاکہ اسلام ہمیں بلاتفریقِ مردوزن کے حصول علم کی ترغیب دیتاہے اورتاکید کرتاہے کہ علم نافع حاصل کیاجائے اس لیے تمام مسلمانوں کایہ فریضہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں اوروہ تمام اسباب و ذرائع اختیارکریں جن کے ذریعے سے ہماری آنے والی نسل علمی میدانوں میں ممتازاورباکمال ہو۔

Loading...

اجلاس کے دیگر مقررین اورخصوصی شرکاء میں انوارالمدارس حیدرآباد کے ناظم مولانامحمدشریف مظاہری،جامعہ ام سلمہ کے ناظم مولاناآفتاب عالم ندوی،کیننگ اسٹریٹ مسجد احسان کے امام وخطیب مولانا ارشد حسین قاسمی،کلکتہ یونیورسٹی کے پروفیسرمولانااشرف علی قاسمی،مدرسہ فیض القرآن کے حافظ علی حسن صدیقی،دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور کے مہتمم مولانانوشیراحمداور انجینئروقاراحمد خان وغیرہ کے نام قابل ذکرہیں۔

Loading...