مسجد اقصی کا قضیہ ہمارا اپنا قضیہ ، حل کیلئے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا : مولانا محمد رحمانی مدنی– News18 Urdu

مسجد اقصی کا قضیہ ہمارا اپنا قضیہ ، حل کیلئے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا : مولانا محمد رحمانی مدنی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کندھا پکڑ ا اور فرمایا کہ اس فانی دنیا میں اجنبیوں اور مسافروں کی طرح زندگی گزارو۔اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ تم اگر صبح کرلو تو شام کا انتظار نہ کرو اور شام کرلو تو صبح کا انتظار نہ کرو

Sep 15, 2016 07:40 PM IST | Updated on: Sep 15, 2016 07:40 PM IST

نئی دہلی: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کندھا پکڑ ا اور فرمایا کہ اس فانی دنیا میں اجنبیوں اور مسافروں کی طرح زندگی گزارو۔اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ تم اگر صبح کرلو تو شام کا انتظار نہ کرو اور شام کرلو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور اپنی بیماری کے ایام سے پہلے اپنی تندرستی اور موت سے پہلے اپنی زندگی میں کچھ کرلو۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے جنوبی دہلی کی مرکزی عید گاہ جامعہ اسلامیہ سنابل ، نئی دہلی کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مولانا رحمانی نے فرمایاکہ یہ دنیا فانی ہے اور انسان بہت کمزور اور لاچار ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے دنیا کو دھوکہ کا سامان قرار دیا ہے، انسان تو اتنا لاچار ہے کہ دن کے وقت میں ایک چھوٹا سا مادہ مچھر اسے کاٹ لیتا ہے اور وہ نوجوان ہونے کے باوجود ڈینگو کی تاب نہ لاکردنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔انسان کی مثال پانی کے بلبلہ کی طرح ہے یہ کب فوت ہوجائے اسے نہیں پتہ اور موت جب آتی ہے تو یہ نہیں دیکھتی کہ کس کے بچے کتنے چھوٹے ہیں اور کس کی شادی کو کتنے دن ہوئے ہیں، موت جب آتی ہے تو انسان کو دبوچ کر اسپتال تک لے جاتی ہے اور کبھی کبھار وہ صحت یاب ہوکر گھر واپس بھی آجاتا ہے لیکن اس کے بعدبھی اسے موت دبوچ لیتی ہے۔اس لئے انسان کو اپنی کمزوری اور حقیقت سے بے خبر نہیں رہنا چاہئے ،اسے ہروقت موت اور آخرت اور اللہ سے ملنے کی تیار ی کرتے رہنا چاہئے۔

مسجد اقصی کا قضیہ ہمارا اپنا قضیہ ، حل کیلئے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا : مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ حجۃ الوداع کی روشنی میںبیان فرمایا کہ ہمیں ایک دوسرے کی جان کا احترام کرنا چاہئے اوردوسروں کے مال ودولت کی حفاظت کرنی چاہئے اور اسے ناجائز طریقہ سے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔اللہ رب العالمین نے ہمارے لئے جس طریقہ سے ذی الحجہ کے مہینہ کو حرمت والا بنایا ہے اسی طرح ہمارے لئے ایک دوسرے کے احترام اور دوسروں کے لئے مفید بننے کا حکم بھی دیا ہے اس لئے ہمیں ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے آخری پیغام میں نماز کی پابندی، خواتین کا احترام اور ان کے ساتھ حسن سلوک، غلاموں کے ساتھ اچھے برتاؤ کرنے کا حکم نیز شرکیات اور بدعات سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ رب العالمین نے سورۂ نورمیں ہم سے وعدہ کیا ہے کہ اگر ہم نے اس کے پسندیدہ دین کو اختیار کیا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے سے بچے تو وہ ہمیں دنیامیں غلبہ عطا فرمائے گا ۔لیکن بدقسمتی ایسی ہے کہ مسلمانوں نے دین کو بھی بدل دیا اور شرک کو بھی اختیار کرلیا جس کی وجہ سے وہ ذلیل وخوار ہوگئے۔اور اس کا ایک بنیادی سبب علم اور علما سے دوری اور جاہلوں نیز سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے کم علم اور غیر علماء افراد کو اپنا مفتی اور پیشوا بنا لینے کی غلطی بھی ہے۔

Loading...

IMG-20160914-WA0000

مولانا نے مسجد اقصی، فلسطین اور دنیا کے دوسرے خطوں کے خراب حالات کے حوالہ سے بھی مسلمانوں سے دین کو اختیار کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ یہ ساری مصیبتیں ہماری عملی کوتاہی کا نتیجہ ہیں۔ مولانا نے فلسطین کی تاریخ کے حوالہ سے فرمایا کہ ایک دور میں یہودیوں نے عیسائیوں کے خلاف ایرانیوں کو فلسطین میں استعمال کیا تھا لیکن اسلام اور اہل اسلام نے ہمیشہ وہاں شرافت کا ثبوت دیا۔ خلافت راشدہ میں عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام سے باری طے کرکے فلسطین کی فتح کے معاہدہ کے لئے سفر کیا تو وہ خود پیدل چلتے اور غلام کی باری پر اسے سواری پر بٹھا تے، خلافت امویہ اور عباسیہ میں بھی مسلمانوں نے شرافت کا ثبوت دیا۔492ھ میں عیسائیوں نے فلسطین پر ناجائزقابض ہوکر پھر سے شراتیں اور قتل وغارت گری کی ۔ 1149ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوری شرافت کے ساتھ امن وسلامتی کے لئے فلسطین کو فتح کیا۔پھر بریطانیہ کے ایک یہودی کمشنر نے 1920ء کے بعد سے وہاں یہودیوں کو بسانا شروع کردیا تاکہ مسلمان مغلوب ہوجائیں اور 1948ء میں امریکہ ، بریطانیہ اور روس نے چند منٹوں کے اندر اس ظالم حکومت کو تسلیم کرلیا جب کہ یہ لوگ اسکولی بچوں تک کو قتل کرڈالتے ہیں۔ مولانا نے کہاکہ یہ ظلم بند ہونا چاہئے اور امن وسلامتی کا بول بالا ہونا چاہئے۔

IMG-20160914-WA0002

مولانا نے ملکی حالات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور فرمایا کہ یہاں الیکشن کے نام پر فسادات ہونے لگے ہیں، یہاں اسپتالوں میں اعضائے جسمانی کی چوری تک ہوجاتی ہے ، انسان کے مرنے کے بعد بھی پیسے کی لالچ میں اسے ایڈمٹ رکھاجاتا ہے، دھشت گردی کے نام پر مخصوص طبقات کو ناجائز طور پر حراساں اور گرفتار کیا جاتا ہے۔یہاں انسانیت کے سب سے مضبوط نظام ترقی یعنی تعلیم کے حصول میں بھی کرپشن موجود ہے ، معصوم بچوں کے داخلوں تک کے لئے رشوتیں لی جاتی ہیں، دودھ پیتی بچیوں اور نابالغ لڑکیوں کی آبرو سے گھلواڑ ہوتا ہے، گائے کے نام پر سیاست اور انسانوں کا قتل تک ہوتا ہے، یہاں آئے دن فسادات ہوتے رہتے ہیں۔

Loading...