بہار میں ترقی بنام تباہی کے درمیان لڑائی: نریندر مودی

سیتامڑھی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات میں اس بار ترقی بنام تباہی کے درمیان لڑائی ہے اور فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔

Oct 27, 2015 02:22 PM IST | Updated on: Oct 27, 2015 05:42 PM IST
بہار میں ترقی بنام تباہی کے درمیان لڑائی: نریندر مودی

سیتامڑھی۔  وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات میں اس بار ترقی بنام تباہی کے درمیان لڑائی ہے اور فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے لئے لگاتار تیسرے دن مہم چلانے کے لئے آئے مسٹر مودی نے یہاں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے امیدواروں کے حق میں انتخابی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس الیکشن میں ایک طرف ترقی کی راج کی تائید ہے تو دوسری طرف موقع پرستی کی گونج ہے۔ ایک طرف ترقیات کا ذکر ہے تو دوسری طرف ناپاک اتحاد کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اسی طرح ایک طرف ترقی پسندی کا نظریہ ہے تو دوسری طرف تباہی کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ اگر لوگوں کو اپنے مسائل سے نجات پانا ہے تو اس کے لئے ایک ہی جڑی بوٹی کام آئے گی اور اس جڑی بوٹی کا نام نریندر مودی نہیں بلکہ ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) جہاں ترقی کے نام پر عوام سے ووٹ مانگ رہا ہے وہیں دوسری طرف عظیم اتحاد کے لیڈر تنتر منتر کا کھیل کھیل رہے ہیں ۔ تنتر منتر سے پاپ نہیں دھل سکتے، اس سے نوجوانوں کو روزگار ، ہر گھر کو بجلی اور کسانوں کو کھیت میں پانی نہیں مل سکتا ہے۔

وزیراعظم مودی نے وزیراعلیٰ نتیش کمار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ 21 ویں صدی میں جانے کی بجائے 18 ویں صدی میں جارہے ہیں۔ " مہاسوارتھ گٹھ بندھن" (مہاگٹھ بندھن) کے لوگوں کو اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ عوام اسے الوداع کہنے والے ہیں، اس لئے وہ تنترمنتر والوں کے پاس چلے گئے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر سے مرض ٹھیک نہ ہونے پر تھکا ہاراانسان چاہے وہ کتنا بھی تعلیم یافتہ، دولتمند یا مغرور کیوں نہ ہو وہ بھی اسے ٹھیک کرانے کے لئے تنترمنتر والوں کے پاس چلا جاتا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ غرور انسان کو کہاں لے جاتا ہے۔ جب وہ (مسٹر نتیش) مسٹر لالو پرساد یادو کی پناہ میں گئے تب لگ رہا تھا کہ وہ بچنے کے لئے راستے تلاش کررہے ہیں اور آج جب محترمہ سونیا گاندھی کی پناہ میں گئے تو ایسا لگا کہ انہوں نے لوہیا اور کرپوری ٹھاکر کو بھی چھوڑ دیا۔ اس کے باوجود جب کچھ کام نہیں آیا تو تنتر منتر والوں کے پاس جانے لگے۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ تنتر منتر ذاتی طور پر عقیدے کا معاملہ ہوسکتا ہے لیکن انتخابات میں عوام پر بھروسہ نہیں کرکے تنترمنتر والوں کی پناہ میں جانا اور بہار کو 18 ویں صدی میں دھکیلنا جمہوریت کی توہین ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے وقت انہوں نے بہار کی ترقی کے لئے 50ہزار کروڑ روپے روپے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تب انہیں ایسا محسوس ہوا کہ یہ کافی نہیں ہے، اس لئے 1.65لاکھ کروڑ روپے کا پیکیج دیا او راس کے بعد ہی آپ کے پاس ووٹ مانگتے ہیں۔

انہوں نے مسٹر نتیش کمار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہار کے ہر گھر میں بجلی دینے پر ہی ووٹ مانگنے کے لئے آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن بجلی نہ دینے کے باوجود وہ ووٹ مانگنے کے لئے آپ کے پاس آگئے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کمار اور مسٹر لالو پرساد یادو نے 25اور اس کے پہلے کانگریس نے 35سال بہار میں حکومت کی ہے لیکن آج بھی بہار کے چار ہزار گاؤوں میں بجلی نہیں پہنچ سکی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ مرکز نے 1.65لاکھ کروڑ روپے کا جو پیکیج دیا، اس میں سیتامڑھی سے گزرنے والے نیشنل ہائی وے نمبر104کو مزید بہتر بنانے کے لئے 700کروڑ، اترپردیش۔بہار سرحد سے متصل ہن۔نیپال  بارڈر تک سڑکوں کی تعمیر کے لئے چارہزار کروڑ روپے، بجلی پروجیکٹ کے لئے چھبیس کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے مسٹر نتیش کمار پر حکومت نہ چلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا سمیت کئی دیگر پروجیکٹوں میں مرکز سے موصولہ رقم کا استعمال نہیں ہو پا رہا ہے اور بنکوں میں رقم پڑی رہ جاتی ہے۔ جب ان کی پسند کا اپنا ٹھیکیدار نہیں ملتا تب تک کام نہیں ہوتا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے بس صرف بہار کو آگے بڑھانے والی حکومت کی ضرورت ہے اور قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت اس کے لئے تیار ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے پاس بہار کی ترقی کے لئے تین نکاتی پروگرام ہیں، جس میں بجلی، پانی اور سڑک شامل ہے۔ اسی طرح بہار کے لوگوں کے کنبوں کے لئے بھی سہ نکاتی پروگرام ہے اور وہ تعلیم، روزگار اور دوا ۔ انہوں نے کہا کہ جب نوجوانوں کو تعلیم اور روز گار، بزرگوں کو دوا، گاؤں میں بجلی اور سڑک اور کسانوں کو کھیت میں پانی ملے گا تب بہار کو آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکے گا۔

مسٹر مودی نے کہا کہ یہ انتخابات اتنے محدود کام کے لئے نہیں ہیں کہ کون ممبر اسمبلی بنے گا، کونسی پارٹی جیتے گی اور کس کی حکومت بنے گی۔ بلکہ یہ انتخابات یہ طے کریں گے کہ بہار کا مستقبل کیسا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ اپنا مستقبل کس کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں اور کس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج بالمیکی جینتی ہے۔ لاکھوں افراد اس چلچلاتی دھوپ میں انہیں آشیرواد دینے آئے ہیں۔ ایسی خوش قسمتی شاید کسی کو ملتی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ پانچ برس کا اقتدار ان کے لئے سکھ کا موقع نہیں ہے۔ دہلی میں وہ اقتدار کا سکھ بھوگنے کے لئے نہیں بیٹھے ہیں۔ گزشتہ 16 ماہ میں ایک دن بھی انہوں نے چھٹی نہیں کی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اقتدار ان کے لئے خدمت کا ایک پلیٹ فارم ہے، جس میں وہ اپنے جسم کا رواں رواں عوام کی خدمت میں لگانا چاہتے ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ عوام کی خدمت ٹی وی کے پردے پر نظر آئے یا نہ آئے ، اخبار میں نظر آئے یا نہ آئے مگر 16 مہینے کی خدمت کی خوشبو انہیں یہاں نظر آرہی ہے۔

Loading...