درد پولیس : نکسلیوں سے نہیں صاحب، آر ایس ایس اور بجرنگ دل سے لگتا ہے ڈر– News18 Urdu

درد پولیس : نکسلیوں سے نہیں صاحب، آر ایس ایس اور بجرنگ دل سے لگتا ہے ڈر

جنگلوں میں نکسلیوں سے لوہا لینے والے جانباز پولیس اہلکار اور ان کے لواحقین خوفزدہ ہیں۔ انہیں نکسلیوں سے نہیں ہیں بلکہ آر ایس ایس سے ڈر لگتا ہے۔

Oct 17, 2016 07:08 PM IST | Updated on: Oct 17, 2016 07:11 PM IST

بالاگھاٹ : جنگلوں میں نکسلیوں سے لوہا لینے والے جانباز پولیس اہلکار اور ان کے لواحقین خوفزدہ ہیں۔ انہیں نکسلیوں سے نہیں ہیں بلکہ آر ایس ایس سے ڈر لگتا ہے۔مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ ضلع میں گزشتہ دنوں بیهر تھانہ علاقہ میں قابل اعتراض تبصرہ کے بعد آر ایس ایس پرچارک کی گرفتاری کے معاملہ میں آئی جی، ایس پی اور اے ایس پی سمیت اعلی پولیس افسران پر کارروائی کے بعد پورا محکمہ ہی خوفزدہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر قابل اعتراض پوسٹ کے معاملہ میں آر ایس ایس پرچارک سریش یادو کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ سریش کی گرفتاری کے بعد سے ہی بالاگھاٹ ضلع کا ماحول گرم ہے۔ اس معاملہ میں پولیس اہلکاروں کے خلاف معطلی، تبادلے اور ایف آئی آر کی کارروائی کے بعد سے ہی اندر ہی اندر پورا محکمہ خوفزدہ ہے۔

اے ایس پی راجیش شرما سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کے بعد ان کے خلاف جان لیوا حملہ (آئی پی سی کی دفعہ 307) کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم اس معاملے میں ابھی تک کسی پولیس اہلکار کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔علاوہ ازیں آر ایس ایس کے دباؤ کی وجہ سے آئی جی ڈی سی ساگر اور ایس پی است یادو کا بھی تبادلہ کردیا گیا ہے۔

اہل خانہ نے کھولا محاذ

Loading...

بیهر معاملہ میں ریاستی حکومت اور پولیس کے اعلی افسروں کی کارروائی کے بعد پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کا درد سامنے آ یا ہے۔ پولیس کے اہل خانہ نے آئی جی جی جناردن کو میمورنڈم سونپ كر انصاف کی فریاد کی ہے۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اب نکسلیوں سے کم پولیس والوں کو آر ایس ایس، بجرنگ دل، گئورکشک کمیٹی اور بی جے پی کے کارکنوں سے زیادہ ڈر لگنے لگا ہے۔ ایسی صورت میں کس طرح قانون کا راج قائم کیا جا سکے گا؟

آئی جی کو سونپے گئے میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ معاملہ کی سنجیدگی کے پپیش نظر اے ایس پی بذات خود اپنے عملہ کے ساتھ کارروائی کے لئے پہنچے اور سریش کو پوچھ گچھ کے لئے تھانے چلنے کے لئے کہا گیا، سریش اور اس کے ساتھیوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کی، پھر بھی پولیس اہلکار مخالفت کی پروا کئے بغیر اپنے فرض کو انجام دیتے ہوئے سریش کو تھانے لے آئے۔ سریش کے ساتھ تھانے آئے ساتھیوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ دھکا مکی بھی کی، جس کی وجہ سے سریش کو فرار ہونے میں مدد ملی۔ سریش فرار ہوکر ایس آئی ٹی کے گھر پہنچ گیا۔ پولیس نے اس کا پیچھا کر کے گرفتار کیا ، تو اس نے دھمکی دی کہ تم لوگ نہیں جانتے ہو کہ تم نے کس پر ہاتھ ڈالا ہے۔ ہم لوگ وزیر اعظم اور وزیر اعلی تک کو کرسی سے ہٹا سکتے ہیں۔

Loading...