ہائی کورٹ کا تلخ تبصرہ ، بدعنوانی کی بنیاد پر حکومتیں گرائی جانے لگیں ، تو کسی بھی حکومت کا بچنا مشکل– News18 Urdu

ہائی کورٹ کا تلخ تبصرہ ، بدعنوانی کی بنیاد پر حکومتیں گرائی جانے لگیں ، تو کسی بھی حکومت کا بچنا مشکل

نینی تال: اتراکھنڈ میں صدر راج لگائے جانے اور مرکز کے تصرفاتی آرڈیننس کے خلاف کانگریس کی عرضی پر نینی تال ہائی کورٹ میں مہاویر جینتی کی تعطیل کے باوجود سماعت جاری رہے گی۔

Apr 19, 2016 10:30 PM IST | Updated on: Apr 19, 2016 10:30 PM IST

نینی تال: اتراکھنڈ میں صدر راج لگائے جانے اور مرکز کے تصرفاتی آرڈیننس کے خلاف کانگریس کی عرضی پر نینی تال ہائی کورٹ میں مہاویر جینتی کی تعطیل کے باوجود سماعت جاری رہے گی۔ اس درمیان پٹیشن پر سماعت کے دوران عدالت نے آج تبصرہ کیا کہ بدعنوانی کی بنیاد پر حکومتیں گرائی جانی لگے، تو کسی بھی حکومت کا بچنا مشکل ہوگا۔

چیف جسٹس كے ایم م جوزف اور جسٹس وی کے بشٹ کے بنچ کے سامنے مرکزی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے طویل جرح کی، جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے سینئر وکیل ہریش سالوے نے پیروی کی۔ اس سے پہلے سماعت کے دوران مسٹر روہتگی اور سابق وزیر اعلی ہریش راوت کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کے درمیان تصرفات بل کی منظوری کے مسئلے پر تیکھی بحث ہوئی۔

ہائی کورٹ کا تلخ تبصرہ ، بدعنوانی کی بنیاد پر حکومتیں گرائی جانے لگیں ، تو کسی بھی حکومت کا بچنا مشکل

بحث میں سنگھوی نے کہا کہ اسمبلی میں 18 مارچ کو بجٹ بل پاس ہو گیا تھا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر اسمبلی میں بل پاس ہو گیا تھا ، تو راوت حکومت کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے مدعو کیوں کیا گیا؟ ریاستی حکومت کی جانب سے پیروی کرنے پہنچے سالوے کی بھی مسٹر سنگھوی نے مخالفت کی، لیکن عدالت نے سالوے کو سننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کل مہاویر جینتی کی چھٹی ہونے کے باوجود معاملہ کی سماعت جاری رہے گی اور سنگھوی اپنے مؤکل کا مکمل موقف رکھیں گے۔

دریں اثناء درخواستوں پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے معاملے پر حکومتیں گرئی جانے لگیں، تو کسی بھی حکومت کا بچ پانا مشکل ہوگا۔ بینچ کا یہ تبصرہ اس وقت آ یا جب سالوے نے دلیل دی کہ 23 ​​مارچ سے لے کر 25 مارچ تک 9 باغی ممبران اسمبلی کو نااہل ٹھہرانے کی تیاری اور ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کی سرگرمیوں سمیت کئی واقعات ایسے ہوئے ہیں ، جنہیں دیکھتے ہوئے گورنر کو اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر کرنا پڑا۔

Loading...

Loading...