وزیراعظم نریندرمودی نےدوبارہ تاریخی جیت کے ساتھ ہی بدل دی ہندوستانی سیاست کی تعریف– News18 Urdu

وزیراعظم نریندرمودی نےدوبارہ تاریخی جیت کے ساتھ ہی بدل دی ہندوستانی سیاست کی تعریف

عام انتخابات 2019 میں نریندرمودی کی زبردست جیت نےہندوستان کی طرف دیکھنے والے پرانےدورکےچشمے کوتوڑدیا کیونکہ مودی نےآزادی کےبعد سےہندوستانی سیاست کی تعریف میں شامل ذات پات، ڈیموگرافی، صنف اورجغرافیائی تقسیم کوختم کردیا۔

May 23, 2019 09:54 PM IST | Updated on: May 23, 2019 10:00 PM IST

ایک ایسا شخص جسےٹائم میگزین نےالیکشن کے موقع پر'ڈیوائیڈران چیف' سےتعبیرکیا تھا، نریندرمودی کے پاس ووٹ شماری کے دن خوشی ہی خوشی کا موقع ہے۔ عام انتخابات 2019 میں ان کی زبردست جیت نےہندوستان کی طرف دیکھنے والے پرانےدورکے چشمے کوتوڑدیا کیونکہ مودی نےآزادی کےبعد سے ہندوستانی سیاست کی تعریف میں شامل ذات پات، ڈیموگرافی، صنف اورجغرافیائی تقسیم کوختم کردیا۔ مودی کی جیت کوسادہ طورپران اعدادوشمارسے سمجھا جا سکتا ہے۔

موجودہ انتخابی نتائج کےمطابق بی جے پی کا عارضی ووٹ شیئر48 فیصد ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہردوسرے ہندوستانی نےوزیراعظم کےطورپرمودی کوووٹ دیا ہے۔ یہ سخت محنت کا معاملہ تھا کہ مودی کےزیرقیادت بی جے پی کواپنے دم پرسادہ اکثریت حاصل ہوگئی۔ جبکہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے 354 سیٹیں حاصل کرکےاپنے 2014 کے مقابلےمیں بہترمظاہرہ کیا ہے۔ آخری گنتی تک این ڈی اے 354 سیٹوں پرجیت حاصل کی ہے یا سبقت بنائے ہوئےتھی۔ بی جے پی اپنے دم پر303 سیٹوں پرجیت حاصل کی ہے یا سبقت بنائے ہوئے ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی نےدوبارہ تاریخی جیت کے ساتھ ہی بدل دی ہندوستانی سیاست کی تعریف

وزیراعظم نریندرمودی: فائل فوٹو

Loading...

کانگریس اپنا کوئی اثرڈالنے میں ناکام رہی۔ حالانکہ اس نےبڑے پیمانےپرانتخابی مہم چلائی تھی اورموجودہ نتائج کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے درجے کا دعویٰ بھی کرنےکی اہل نہیں ہوسکتی۔ آخری گنتی تک اس عظیم ترین پارٹی محض 51 سیٹوں پرسبقت بنائے ہوئےتھی اوروہ بھی ان میں سےنصف سیٹیں کیرلا اور پنجاب سےہیں۔ حالانکہ پارٹی کےقومی صدرراہل گاندھی کوامیٹھی کی اپنی خاندانی سیٹ کو برقرار رکھنےکےلئے زبردست جدوجہد کرنی پڑی، لیکن اس کےباوجود وہ ہارگئے۔

اترپردیش میں ایس پی – بی ایس پی اتحاد ہی وہ واحد اتحاد تھا، جس سےمقابلہ کسی قدرسخت تھا۔ تاہم اس سے قبل بی جے پی نے یوپی میں 71 سیٹیں حاصل کی تھیں، ان میں اسے9 سیٹوں کا نقصان ہوتا ہوا نظرآرہا ہے، جس کی تلافی مغربی بنگال اوراوڈیشہ میں بی جے پی کوہونے والے زبردست فوائد سے کی جاسکتی ہے۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کو بی جے پی سے سخت مقابلےکا سامنا کرنا پڑا۔ بی جے پی بنگال میں 19 سیٹوں پرجبکہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس 22 سیٹوں پرسبقت بنائےہوئے ہے۔ جبکہ دوسری طرف وفاقی محاذ (فیڈرل فرنٹ) کےمعمارچندرا بابونائیڈوکوخود اپنی ہی ریاست میں جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آرکانگریس پارٹی سے شکست فاش کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

بی جے پی کوہندی بولی جانے والی ریاستوں یوپی، بہاراورجھارکھنڈ میں تین طاقتوراتحاد کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن ان تینوں ریاستوں میں ذات پات کا حساب بی جے پی کو کبھی سوٹ نہیں کیا۔ پارٹی نے 2014 میں ان ریاستوں کی 134 سیٹوں میں سے 117 سیٹیں جیتی تھیں۔

اترپردیش میں بی جے پی نےنام نہاد گٹھ بندھن جاٹ، یادو، دلت اورمسلمان سے ہٹ کرکے تمام ذات کے گروپوں کواپنی طرف لانے کےلئے محنت کی۔ نام نہاد اتحاد کے رائے دہندگان کی تعداد 40 فیصد سے قدرے زائد ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ بی جے پی نےکامیاب طورپربقیہ 60 فیصد دہندگان کواپنے حق میں کرلیا۔

بہاراسمبلی انتخابات سے بی جے پی نے بہترطریقےسےسبق سیکھ لیا تھا اوراس سے بی جے پی کوایک جیتنے والے اتحاد کواپنی طرف کرنے میں مدد ملی۔ نتیش کمارکا اب بھی اوبی سی کی 15 فیصد آبادی پرکنٹرول ہےاوراسی کےساتھ ترقیاتی کاموں کےنام پران کے ووٹ ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ بی جے پی نےجنتا دل (متحدہ) کے صدرکواپنا مساوی شراکت داربنایا اور اس نے 2014 میں جیتی گئی 22 سیٹوں کےمقابلےمیں پانچ کم سیٹوں پرراضی ہوگئی تاکہ نتیش کمارکے ساتھ اتحاد برقرار رہے۔ جھارکھنڈ میں بی جے پی آل جھارکھنڈ اسٹوڈنٹس یونین کوایک سیٹ دینے پرراضی ہوگئی تاکہ اس سے ریاست میں کرمی ووٹوں کوجوڑا جاسکے۔  نتیجتاً بی جے پی کواوبی سی اتحاد کےساتھ اعلیٰ ذات کا فائدہ ملا۔

عام انتخابات 2019 کا یہ فیصلہ جوکشمیرسےکنیا کماری تک سنائی دے رہا ہے، وہ مودی اورامت شاہ کی دونوں کی زبردست تدبیرکا نتیجہ ہے۔ امیدوارکےانتخاب سےلےکراپوزیشن کےنعرے کا نعرے سے مقابلہ کرکے دونوں ہی لیڈروں نےمحنت میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ تنازعات کوخاطرمیں نہ لاتےہوئے بی جے پی نے دہشت گردی کی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ، تیجسوی سوریہ، کرکٹرگوتم گمبھیر، صوفی سنگرہنس راج ہنس اوربھوجپوری اداکارروی کشن کوانتخابی میدان میں اتاردیا۔ ابتدائی اعدادوشمارسے پتہ چلتا ہےکہ بی جے پی کےٹکٹ پرلڑنے والے ان 103 امیدواروں میں سے 80 امیدوارایوان زیریں تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکتےتھے۔

توقع ہےکہ وزیراعظم آج شام دہلی میں بی جے پی صدردفترمیں پارٹی کارکنان کو خطاب کریں گے۔ دریں اثنا روس کے ولادیمیرپتن، چین کےشی جن پنگ اورسری لنکا کے صدراور وزیراعظم جیسےعالمی رہنماوں نےمودی کوان کی جیت پر مبارکباد پیش کی ہے۔ وزیراعظم کومبارکباد دینے والوں میں سب سے پہلےان کےگہرے دوست اوراسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو ہیں، جنہوں نے ہندی میں ٹوئٹ کئے۔

حالانکہ وزیراعظم مودی ابھی تک بذات خود سامنے نہیں آئے ہیں۔ البتہ انہوں نےکئی ٹوئٹ ضرورکئے ہیں۔ ٹوئٹرکے ذریعہ اپنے پہلے پیغام میں انہوں نے لکھا 'ہندوستان کو ایک بار پھرجیت ملی ہے'۔ انہوں نے جگن موہن ریڈی اور نوین پٹنائک کوبھی ٹوئٹرکے ذریعہ تہنیتی پیغام بھیجا ہے۔ جگن موہن ریڈی اورنوین پٹنائک نے بالترتیب آندھرا پردیش اور اوڈیشہ کے ریاستی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔

Loading...