لوک سبھا الیکشن: درست رہا نیوز 18- آئی پی ایس او ایس کا ایگزٹ پول– News18 Urdu

لوک سبھا الیکشن: درست رہا نیوز 18- آئی پی ایس او ایس کا ایگزٹ پول

آئی پی ایس او ایس انڈیا نے 2019 کے لوک سبھا الیکشن کے ہر پہلو کا درست اندازہ لگا کر ایک بار پھر اپنی معتبریت ثابت کی ہے۔

May 25, 2019 05:51 PM IST | Updated on: May 25, 2019 06:25 PM IST

دنیا کی سب سے قابل اعتماد ریسرچ ایجنسی  آئی پی ایس او ایس کے اشتراک سے کرائے گئے ایگزٹ پول نے لوک سبھا الیکشن کے نتائج کا بالکل درست اندازہ لگایا۔  آئی پی ایس او ایس کو دنیا بھر کے انتخابات میں نتائج کا درست اندازہ کرنے کے لئے جانا جاتا ہے۔  آئی پی ایس او ایس انڈیا نے 2019 کے لوک سبھا الیکشن کے ہر پہلو کا درست اندازہ لگا کر ایک بار پھر اپنی معتبریت ثابت کی ہے۔

آئیے، دیکھتے ہیں کہ تین اہم نکات( این ڈی اے، یو پی اے اور دیگر کی سیٹیں) پر مختلف ایجنسیوں کے اندازوں اور حقیقت سے کتنا زیادہ فرق دیکھنے کو ملا۔

لوک سبھا الیکشن: درست رہا نیوز 18- آئی پی ایس او ایس کا ایگزٹ پول

علامتی تصویر

Loading...

اس اندازہ کی اصل بنیاد حقیقی نتائج اور اس کے بیچ کا فرق ہے۔ جو نیوز 18-  آئی پی ایس او ایس کے اندازے( سب سے آخری کالم) کے سب سے قریب ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ  آئی پی ایس او ایس دوسرے پوزیشن پر قابض سروے سے کہیں زیادہ آگے ہے۔ سروے کرنے والی کئی ایجنیسوں کے اندازے کا فرق تو تین عدد تک پہنچ گیا۔ اگر آپ پارٹی خاص اور ریاستی سطح پر اندازہ کریں تو دوسرے مقام پر رہنے والی ایجنسی سے نیوز 18-  آئی پی ایس او ایس کا فرق اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ سیٹوں کے درست اندازے کے علاوہ ووٹ شئیر کو لے کر بھی  آئی پی ایس او ایس کا اندازہ حقیقت سے زیادہ قریب رہا۔  آئی پی ایس او ایس نے اندازہ لگایا تھا کہ اس لوک سبھا الیکشن میں این ڈی اے کا ووٹ شئیر 48.5 فیصد رہے گا۔ الیکشن کمیشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس لوک سبھا الیکشن میں این ڈی اے کا ووٹ شئیر 49 فیصد رہا۔

Capture-12

آئی پی ایس او ایس نے تین مراحل منصوبے بنانے، اس کو لاگو کرنے اور اس کی گہرائی سے تجزیہ کرکے یہ صحیح اندازہ تیار کیا۔

منصوبہ

یہ بہت اہم مرحلہ تھا۔ دنیا بھر میں مختلف پہلوؤں سے انتخاب کا انعقاد اور نتائج کے اندازہ کے آئی پی ایس او ایس کے تجربے نے یہ یقینی بنایا کہ ہندوستان میں لوک سبھا انتخابات میں کسی بھی مورچہ پرکہیں کوئی اندازہ اندازوں پر مبنی نہ ہو بلکہ اس کے پیچھے ہر حقیقت کا باریک مطالعہ ہو۔ اس طرح سے سائنسی طریقے سے نمونے اکھٹا کرنے کا عمل بہت اہم تھا۔

پہلے رینڈم طریقے سے سیمپپل اکھٹا کر 199 لوک سبھا علاقوں کو منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد آئی پی ایس او ایس نے ان لوک سبھا سیٹوں کے 796 اسمبلی حلقوں کی شناخت کی۔ پھر ان میں 4،776 ووٹنگ مراکز کو منتخب کیا گیا۔ ان مراکز پر ٹائم لوکیشن کلسٹر سیمپلنگ کی گئی۔ اس دوران ہر تیسرے یا پانچویں ووٹر سے بات کی گئی تاکہ گروپ میں ووٹ ڈالنے آنے والے لوگوں کے مدنظر سروے متاثر نہ ہو۔

نافذ کرنے کا عمل

یہ عمل پوری طرح سے ایگزٹ پول کے اصول پر مبنی تھا۔ یہ دیگر ایجنسیوں کے طریقہ سے بالکل الگ تھا جو شارٹ کٹ اپناتے ہوئے پوسٹ پول، آن لائن، ٹیلی فونک اور موبائل ایپ کے پول کو بھی ایگزٹ پول کا نام دیتی ہیں۔ یہ سروے سبھی مرحلوں کے ووٹنگ والے دن اور پہلے مقرر کردہ ووٹنگ مراکز پر منعقد کرایا گیا۔

سبھی انٹرویوز ٹیبلیٹ کے ذریعہ لئے گئے۔ سبھی انٹرویور کو پاور بینک مہیا کرائے گئے تاکہ ٹائم لوکیشن کلسٹر سیمپلنگ سے کسی طرح کی کوئی چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔ ٹیبلیٹ ای وی ایم کی طرح ہی ڈیزائن تھے اور لوگوں نے بغیر انٹرویور کی جانکاری کے بٹن دبائے۔

آئی پی ایس او ایس کے اس عمل میں سب سے بڑا مرحلہ گھروں سے ڈیٹا جمع کرنے کا تھا۔ اس کام پر چار علاقائی اور ایک قومی کنٹرول روم سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ تقریبا 35 ایگزیکٹیو کی ٹیم نے معیار کی جانچ کرتے ہوئے ڈیٹا کو مسترد کرنے یا اس کا انتخاب کرنے کا کام کیا۔

ایسے کیا تجزیہ

ٹیم کو زمین کی سطح پر آنے والے چیلنجوں کا اندازہ تھا، لہذا اس سے نمٹنے کے لئے ہی یہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد ہر ایک پارلیمانی انتخابی حلقے کے مطابق، عمر، جنس، مذہب اور ذات کی بنیاد پر سروے تیار کیا گیا۔ ایگزٹ پول کے بعد ووٹروں کا موڈ، ٹرینڈ اور حقیقت کو دھیان میں رکھ کر ووٹ اور سیٹوں کا اندازہ لگایا گیا۔ آئی پی ایس او ایس کی مرکزی تحقیقاتی ٹیم نے اس دوران  5-6 ہفتوں میں ملک کے الگ الگ حصوں کا مسلسل دورہ کیا۔ اس سے انہیں لوگوں کی نبض جاننے کا موقع ملا اور ساتھ ہی وہ الگ الگ حصوں میں لوگوں کے مسائل سے روبرو ہوئے۔آئی پی ایس او ایس نے نومبر 2018 سے لے کر مارچ 2019 تک ٹرسٹ سروے بھی کیا۔ اس سے ٹرینڈ کو سمجھنے اور صحیح سمت میں آگے بڑھنے میں مدد ملی۔

Loading...