nitish kumar says not all people of a caste vote one way work will defeat opposition mahagathbandhan math in bihar– News18 Urdu

ذات پات سے طے نہیں ہوتے ووٹ، عظیم اتحاد کے فارمولے کوہرائے گا میرا کام: نتیش کمار

بہارکے وزیراعلیٰ نے نیوز18 کو دیئے گئے ایکسکلوزیوانٹرویو میں کہا کہ آخری بارذات پات پرمبنی سروے سال 1931 میں ہوا تھا۔

Apr 03, 2019 11:29 PM IST | Updated on: Apr 03, 2019 11:29 PM IST

بہارمیں ذات پات کی سیاست ہمیشہ حاوی رہی ہے۔ وہاں کی سیاست کی بنیاد ہی ذات پات پررکھی گئی تھی۔ اسی کی وجہ سے اس باراپوزیشن عظیم اتحاد نے سوشل انجینئرنگ ڈرائنگ بورڈ کی تشکیل کی ہے۔ آرجے ڈی کی قیادت والی عظیم اتحاد ای بی سی / اوبی سی اورمسلم ووٹوں پرمرکوز ہے۔ حالانکہ بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارکی سوچ اس سے مختلف ہے۔

نیٹ ورک 18 کے گروپ ایڈیٹران چیف راہل جوشی کے ساتھ ایکسکلوزیو انٹرویو میں نتیش کمارنے کہا کہ آرجے ڈی اورکانگریس نے عوام کا اعتماد کھودیا ہے۔ اس حکومت کا کام عوام کو نظرآرہا ہے۔ نتیش کمارنے انتخابی مدعوں پربات چیت کرتے ہوئے یہ بھی یقین دلایا کہ این ڈی اے بہارمیں سبھی 40 سیٹوں پرجیت درج کرے گا۔

ذات پات سے طے نہیں ہوتے ووٹ، عظیم اتحاد کے فارمولے کوہرائے گا میرا کام: نتیش کمار

بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمار

Loading...

ذات پات پرمبنی ووٹوں سے متعلق سوال پرنتیش کمارنے کہا کہ 'آپ جس اقلیتی مسلم طبقے کی بات کررہے ہیں، اس کا اعدادوشماردستیاب ہے۔ ہر10 سال میں مردم شماری ہوتی ہے اوریہ اعدادوشمارآتے ہیں۔ ایس سی اورایس ٹی کی بھی مردم شماری ہوچکی ہے، لیکن دیگرذات کے اعدادوشمارکے لئے کیا یہ سروے ہوئے ہیں۔ آپ یہ کس بنیاد پرکہتے ہیں کہ ایک ذات کی آبادی کا اعدادوشماریہ ہے۔

نتیش کمارنے کہا کہ آخری بارذات پات پرمبنی سروے سال 1931 میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں ذات پات پرمبنی سروے ہونا چاہئے اوروزیراعظم نریندرمودی نے اس پرمثبت ردعمل بھی ظاہرکیا ہے۔ اب جو آئندہ اعدادوشمارہوگا، اس کے بعد ہی ہم سبھی طبقے کے صحیح اعدادوشمارجان پائیں گے۔ تب ہم درج فہرست ذات اوراس کے تحت آنے والی تمام ذات کی صحیح آبادی سے واقف ہوپائیں گے۔ ابھی ہمارے پاس مسلم طبقے کے اعدادوشمارہیں، لیکن ہم دیگرطبقات کی آبادی کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔

حالانکہ عوامی آبادی کے فراہم شدہ اعدادوشمار میں سبھی کی رپورٹ الگ الگ اعدادوشمار دیتی ہے۔ نتیش کمارنے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اب بہارکے اقلیتی طبقہ کا اعتماد اپوزیشن کے عظیم اتحاد پرباقی بچا ہے۔

Loading...