آم کے مرید وزیر اعظم مودی ہی نہیں ، اورنگ زیب بھی تھا ، دئے تھے دو آموں کو سنسکرت میں نام– News18 Urdu

آم کے مرید وزیر اعظم مودی ہی نہیں ، اورنگ زیب بھی تھا ، دئے تھے دو آموں کو سنسکرت میں نام

کبھی کبھی کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں ، جن کا سیاست یا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے ۔ وہ صرف ہونے کیلئے ہوتے ہیں ۔ حال ہی میں وزیر اعظم مودی کا بالی ووڈ ایکٹر اکشے کمار کو دیا انٹرویو عام پر بحث کو لے کر سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکا ہے ۔

Apr 25, 2019 05:36 PM IST | Updated on: Apr 25, 2019 05:36 PM IST

کبھی کبھی کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں ، جن کا سیاست یا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے ۔ وہ صرف ہونے کیلئے ہوتے ہیں ۔ حال ہی میں وزیر اعظم مودی کا بالی ووڈ ایکٹر اکشے کمار کو دیا انٹرویو عام پر بحث کو لے کر سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکا ہے ۔ دراصل اکشے کمار نے اپنے ڈرائیور کی بیٹی کے سوال کو وزیر اعظم مودی سے پوچھا کہ کیا وہ آم کھاتے ہیں ، اگر کھاتے ہیں تو کس طرح سے ، مودی کا جواب کافی دلچسپ تھا ۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مجھے آم پسند ہیں اور گجرات میں امارس کی روایت ہے ۔ پیڑ پر پکے آم مجھے کھانا پسند ہے ۔ آم کی کئی قسمیں پسند ہیں ۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ مغل بادشاہ اورنگ زیب کو بھی آم کافی پسند تھے ۔ اتنا پسند تھا کہ آم کی الگ الگ قسموں کو مستقل طور پر بادشاہ اپنے پاس منگاتا تھا ۔ کئی مغل بادشاہوں کو آم پسند تھے ۔

آم کے مرید وزیر اعظم مودی ہی نہیں ، اورنگ زیب بھی تھا ، دئے تھے دو آموں کو سنسکرت میں نام

آم کے مرید وزیر اعظم مودی ہی نہیں ، اورنگ زیب بھی تھا ، دئے تھے دو آموں کو سنسکرت میں نام

یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جس اورنگ زیب کو ہندووں سے نفرت کیلئے جانا جاتا ہے ، اسی اورنگ زیب نے اپنے بیٹے کے کہنے پر آم کی دو الگ الگ قسموں کے سنسکرت میں نام دئے تھے ۔ اورنگ زیب نے ایک آم کا نام سدھارس رکھا اور دوسرے کا نام رسنا ولاس رکھا ۔

وزیر اعظم مودی اور اکشے کمار ۔ فائل فوٹو وزیر اعظم مودی اور اکشے کمار ۔ فائل فوٹو

اورنگ زیب کو آم کافی پسند تھے ۔ اس بات کی تصدیق بلی موریا کے لیٹرس آف اورنگ زیب ( رقعات عالمگیر کے ترجمہ ) سے پتہ چلتا ہے ۔ اس میں اورنگ زیب کے لکھے کئی خطوط موجود ہیں ۔ اس میں صفحہ نمبر 11 پر اپنے بیٹے محمد اعظم شاہ بہادر کو لکھے خط میں اورنگ زیب کہتا ہے : ۔

تم نے جو اپنے بوڑھے باپ کو آموں کی ٹوکری بھیجی ہے ، اس کو پاکر میں خوش ہوں ، تم نے مجھ سے ان آموں کے نام رکھنے کی درخواست کی ہے جبکہ تم خود انتہائی ہوشیار ہو ۔ تم مجھ بوڑھے کو کیوں تکلیف دیتے ہو ، پھر بھی میں نے ان کا نام سدھارس اور رسنا ولاس رکھا ہے ۔

مغل دور کا آموں سے وابستہ ایک قصہ بھی کافی مشہور ہے ، جس کی وجہ سے اورنگ زیب کو اپنے والد کی ڈانٹ کھانی پڑی ۔ دراصل دکن میں دو آموں کے پیڑ پر چوبیس گھٹنے پہرا رہتا تھا ۔ بادشاہ شاہجہاں کو ان پیڑوں کے آم کافی پسند تھے ۔ سیزن آنے پر جب ان پیڑوں کے کچھ آم بادشاہ کو بھیجے گئے تو شاہجہاں کافی ناراض ہوئے ۔ دراصل آم کافی کم تھے اور وہ خراب ہوچکے تھے ۔ اس وقت اورنگ زیب دکن کے گورنر تھے ۔ اورنگ زیب نے اپنے دفاع میں اپنے والد کو لکھا کہ آندھی طوفان کی وجہ سے ایسا ہوا ۔ آداب عالمگیر میں یہ خط موجود ہے ۔

narendra modi, narendra modi interview, aurangzeb nayak ya khalnayak, mughal empire, aurangzeb, mango, sanskrit, नरेंद्र मोदी, नरेंद्र मोदी का इंटरव्यू, औरंगजेब नायक या खलनायक, मुगल साम्राज्य, औरंगजेब, आम, संस्कृत, अक्षय कुमार, akshay kumar, History, इतिहास

پورے ہندوستان میں ملتے تھے آم 

فرانسس برنیئر کے مطابق گرمیوں کے دو مہینوں میں آم کافی بڑی تعداد میں ملتے تھے ۔ یہ کافی سستے ہوتے تھے ، لیکن جو دہلی میں پیدا ہوتا تھا وہ کافی الگ ہوتا تھا ۔ آئین اکبری کے مطابق سب سے اچھا آم بنگال ، گولکنڈہ اور گوا سے آتا تھا ۔ آم پورے ہندوستان میں پائے جاتے تھے خاص طور پر بنگال ، گجرات ، مالوا ، خاندیش اور دکن ۔

اورنگ زیب نائیک یا کھلنائک کتاب کی پہلی جلد سے ماخوذ اقتباس

Loading...