دہشت گردی پر نرم رخ رکھنے والے آرٹیکل 370 کی کر رہے ہیں مخالفت: نریندر مودی

وزیر اعظم مودی کے مطابق، آرٹیکل 370 کے مدنظر ملک کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اب ہر کوئی یہ جان گیا ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے نے جموں وکشمیر اور لداخ کو ملک سے الگ کر دیا تھا۔ یہاں کے لوگ 70 سالوں تک ترقی سے دور رہے‘‘۔

Aug 14, 2019 02:16 PM IST | Updated on: Aug 14, 2019 02:16 PM IST
دہشت گردی پر نرم رخ رکھنے والے آرٹیکل 370 کی کر رہے ہیں مخالفت: نریندر مودی

وزیر اعظم نریندر مودی: فائل فوٹو

مودی حکومت کی دوسری میعاد کار میں 75 دن پورے ہو گئے ہیں۔ اس دوران حکومت نے کئی بڑے کام کئے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ چرچا جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹائے جانے پر ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کا کہنا ہے کہ جو لوگ بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ دہشت گردی کو لے کر ہمدردی رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات نیوز ایجنسی آئی اے این ایس سے خصوصی بات چیت میں کہی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’ جو لوگ بھی آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں ان کی فہرست دیکھئے۔ یہ اپنا فائدہ دیکھنے والے لوگ ہیں۔ یہ سیاسی کنبوں کے لوگ ہیں جو دہشت گردی کے تئیں ہمدردی رکھتے ہیں اور کچھ اپوزیشن کے لوگ ہیں۔ یہ فیصلہ ملک کے لئے ہے نہ کہ سیاست کے لئے۔ جو فیصلہ لینا پہلے ناممکن تھا اسے ہم نے حقیقت میں بدل دیا ہے‘‘۔

Loading...

وزیر اعظم مودی کے مطابق، آرٹیکل 370 کے مدنظر ملک کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اب ہر کوئی یہ جان گیا ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے نے جموں وکشمیر اور لداخ کو ملک سے الگ کر دیا تھا۔ یہاں کے لوگ 70 سالوں تک ترقی سے دور رہے‘‘۔

اب ہو گی ترقی

وزیر اعظم مودی نے یہ بھی کہا کہ اب وادی میں چیزیں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ کشمیر کے لوگ جمہوریت کو لے کر زیادہ عہد بستگی دکھا رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ پنچایت کے انتخابات میں کتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹ دئیے۔ پچھلے سال نومبر اور دسمبر میں یہاں 35 ہزار سرپنچ منتخب کئے گئے۔ الیکشن میں 74 فیصدی لوگوں نے حصہ لیا۔ الیکشن کے دوران کوئی تشدد نہیں ہوا‘‘۔

Loading...