حکومت بھلے ہی اکثریت کی ہو، لیکن اتفاق رائے سے چلے گا ملک: وزیراعظم نریندرمودی کا تاریخی خطاب– News18 Urdu

حکومت بھلے ہی اکثریت کی ہو، لیکن اتفاق رائے سے چلے گا ملک: وزیراعظم نریندرمودی کا تاریخی خطاب

وزیراعظم ہوں نےکہا کہ میں ملک سےکہوں گا کہ آپ نے 2014 میں مجھ پربھروسہ کیا، 2019 میں اورزیادہ طاقت دی۔ میں اس کے پیچھےکےجذبات کوبہترطریقےسےسمجھتا ہوں۔

May 23, 2019 08:27 PM IST | Updated on: May 23, 2019 09:22 PM IST

وزیراعظم نریندرمودی نے دوسری بار تاریخی جیت درج کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا 'ملک نے اس فقیرکی جھولی کوبھردیا ہے۔ اس کے لئے ملک کے شہریوں کا سرجھکا کر سلام۔ ملک آزاد ہوا اتنے لوک سبھا الیکشن ہوئے، لیکن اس بارسب سے زیادہ ووٹنگ ہوئی۔ یہ اپنےآپ میں جمہوریت کے تئیں ہندوستان کے لوگوں کے عزم کو ظاہرکرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کےدرمیان ہوا، میرے لئے وہ بات بیت چکی ہے، ہمیں سب کو ساتھ لے کرچلنا ہے۔ مخالفین کوبھی ملکی مفاد میں انہیں ساتھ لے کرچلنا ہے۔ اس شاندار اکثریت کے بعد بھی سرخم کے ساتھ جمہوریت کے اقدارکے درمیان چلنا ہے۔ آئین ہمارا سپریم ہے، اسی کے مطابق ہمیں چلنا ہے۔ ہندوستان کےروشن مستقبل کے لئے ملک کے اتحاد اورسالمیت کے لئے عوام نے اس الیکشن میں ایک نیا نیریٹیوکے سامنے رکھ دیا ہے۔ سارے سماجی ماہرین کواپنی پرانی سوچ ازسرنو غورکرنےکےلئے ملک کے غریب سے غریب شخص نے مجبورکردیا۔

حکومت بھلے ہی اکثریت کی ہو، لیکن اتفاق رائے سے چلے گا ملک: وزیراعظم نریندرمودی کا تاریخی خطاب

وزیراعظم نریندرمودی کا والہانہ استبقال کیا گیا۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ میں ملک سے کہوں گا کہ آپ نے 2014 میں مجھ پربھروسہ کیا، 2019 میں زیادہ جاننے کے بعد اورزیادہ طاقت دی۔ میں اس کے پیچھے کے جذبات کو بہترطریقے سے سمجھتا ہوں۔ بھروسہ جیسے بڑھتا ہے، ذمہ داری اورزیادہ بڑھتی ہے۔ اتنی بڑی ذمہ داری کے بعد ملک کے باشندوں سے کہنا چاہوں گا کہ میں میرے لئے کچھ نہیں کروں گا ۔ میرا پل پل اورمیرے جسم کا ذرہ ذرہ ملک کے باشندوں کی خدمت میں وقف ہوگا۔ 2014 سے 2019 تک آتے آتے سیکولرازم کی جماعت نے بولنا بند کردیا۔ اس الیکشن میں ایک بھی سیاسی پارٹی سیکولرازم کا نقاب پہن کرعوام کو گمراہ نہیں کرپایا۔

انہوں نےکہا کہ ہندوستان کے عوام کے عزائم سے ہندوستان کی جمہوری طاقت کو مضبوطی ملی ہے۔ اب پوری دنیا کو ہندوستان کے جمہوری طاقت کو پہچاننا ہوگا۔ جمہوریت کے اس میلے میں جن لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، جولوگ زخمی ہوئے ہیں، ان کے اہل خانہ کے تئیں میں احترام ظاہرکرتا ہوں۔

وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ بھگوان کرشن کی طرح ملک کھڑا ہوا۔ عوام نے کرشن کی طرح جواب دیا۔ یہ ہندوستانیوں کی جیت ہے۔ ان الیکشن میں کوئی جیتا توہندوستان کی جیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آج خود میگھراجہ بھی اس وجے اتسومیں شریک ہونے کے لئےہمارے درمیان ہیں۔

وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ سیاسی پنڈتوں کو اپنی پرانی سوچ کو چھوڑنا پڑے گا۔ یہ 21 ویں صدی ہے، یہ مودی نہیں ایمانداری کی تڑپ کی جیت ہے۔ اس الیکشن میں میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ یہ الیکشن کوئی پارٹی نہیں لڑرہی ہے، کوئی امیدوارنہیں لڑرہا ہے، کوئی لیڈرنہیں لڑرہا ہے۔ یہ الیکشن ملک کے عوام لڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو سے دوبارہ آنے تک اتارچڑھاو دیکھے ہیں، لیکن ہم اپنی ہمت اورآدرشوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ جیت کے اس موقع پرمیں بھروسہ دلاتا ہوں کہ بی جے پی آئین اورآئینی ڈھانچے کے تئیں پر عزم ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ یہ 21 ویں صدی ہے، یہ نیا ہندوستان ہے، یہ الیکشن کی جیت مودی کی نہیں ہے، یہ ملک میں ایمانداری کے لئے تڑپتے ہوئے شہریوں کی امیدوں کی جیت ہے، یہ 21 ویں صدی کے خوابوں کولے کرچل پڑے نوجوانوں کی جیت ہے۔ بی جے پی کے کروڑوں کارکنان، ان کی محنتوں اوران کےجدوجہد پرفخرہوتا ہے کہ جس پارٹی میں ہم ہیں، اس میں کتنے دلدارلوگ ہیں۔

Loading...