پرینکا گاندھی نےکشمیرپرکہا- غیرآئینی طریقےسےہٹایا گیا دفعہ 370

اپنے یک روزہ دورپرسون بھدرکے امبھا گاوں پہنچیں پرینکا گاندھی نے میڈیا سے بات چیت میں پارٹی لائن کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پوری طرح سےغیرآئینی تھا۔

Aug 13, 2019 06:15 PM IST | Updated on: Aug 13, 2019 06:19 PM IST
پرینکا گاندھی نےکشمیرپرکہا- غیرآئینی طریقےسےہٹایا گیا دفعہ 370

پرینکا گاندھی نے سون بھدرمیں توڑی آرٹیکل 370 پرخاموشی۔

جموں وکشمیرسے آرٹیکل 370 ہٹائے جانےکے بعد کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے پہلی باراپنا ردعمل ظاہرکیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے منگل کوکہا کہ جس طرح سے یہ سب کچھ کیا گیا وہ پوری طرح سےغیرآئینی تھا۔ ساتھ ہی انہوں نےکہا کہ یہ جمہوریت کے سبھی اصولوں کے خلاف تھا۔

اپنےیک روزہ دورپرسون بھدرکےامبھا گاوں پہنچیں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نےمیڈیا سے بات چیت میں پارٹی لائن کا ساتھ دیتےہوئےکہا کہ یہ پوری طرح سے غیرآئینی تھا۔ انہوں نےکہا کہ ایسا کچھ بھی کرنےکےلئےاصول بنےہیں، ان ضوابط کی خلاف ورزی کی جانی چاہئے، لیکن اس معاملےمیں ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔

Loading...

کئی سینئرکانگریسی لیڈروں نےکی ہے مرکزی حکومت کی حمایت

واضح رہےکہ کانگریس کے سابق صدرراہل گاندھی نے بھی اسے غیرآئینی قراردیا تھا۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ اس میں کسی کی رائے نہیں لی گئی۔ حالانکہ اس موضوع پرکانگریس میں ہی دو گروپ دیکھنےکوملا۔ کانگریس کے کئی سینئرلیڈراس موضوع پرمرکزکی مودی حکومت کے ساتھ کھڑے نظرآئے۔ سونیا گاندھی سےقربت رکھنے والے جناردن دویدی نےاس قدم کو قومی مفاد میں قراردیا۔ کانگریس کےجنرل سکریٹری جیوتی رادتیہ سندھیا بھی اس موضوع پرپارٹی لائن سے ہٹ کرمرکزی حکومت کےساتھ کھڑے نظرآئے۔ اتنا ہی نہیں سینئر کانگریسی لیڈرکرن سنگھ نے بھی فیصلے کا استقبال کیا تھا۔

کشمیرپرکانگریس کا ایک موقف

حالانکہ کشمیرموضوع پرکسی بھی طرح کے اختلافات سے انکارکرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ جموں وکشمیرکو لےکرپوری کانگریس ایک ہے۔ اس موضوع پرکانگریس پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

Loading...