پرینکا گاندھی کا مشن اترپردیش: بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی!۔

پرینکا کے لئے وہ چیلنجز کیا ہیں اور کیا وہ بہ آسانی ان چیلنجوں سے نمٹ پائیں گی، یہ دیکھنے کی بات ہو گی۔

Feb 12, 2019 04:45 PM IST | Updated on: Feb 12, 2019 04:45 PM IST
پرینکا گاندھی کا مشن اترپردیش: بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی!۔

پرینکا گاندھی، راہل گاندھی، جیوترادتیہ سندھیا اور کانگریس کے دیگر لیڈران

اترپردیش کے دارالحکومت لکھنئو میں راہل۔ پرینکا کے روڈ شو میں امڈی زبردست بھیڑ سے کانگریس لیڈران اور کارکنان بیحد پرجوش ہیں۔ زبردست بھیڑ کو وہ اپنے حق میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی ماحول سے تعبیر کر رہے ہیں۔

کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان اور پارٹی اقلیتی شعبہ کے چئیرمین ندیم جاوید نے کہا کہ لکھنئو نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ ایماندارانہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ ایسی تبدیلی چاہتے ہیں جس میں لوگوں کی آواز سنی جائے۔  ندیم جاوید نے کہا کہ لکھنئو میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی ایک نئے انقلاب کی آہٹ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب یوپی میں تبدیلی بہر صورت آئے گی۔

Loading...

تاہم، اس روڈ شو کے بعد سے ہی پرینکا گاندھی کا چیلنجوں سے پر سیاسی سفر بھی اب شروع ہو گیا ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں وہ کچھ کرشمہ کر دکھا پائیں۔ حالانکہ یہ اتنا آسان بھی نظر نہیں آ رہا ہے۔ پرینکا کے لئے وہ چیلنجز کیا ہیں اور کیا وہ بہ آسانی ان چیلنجوں سے نمٹ پائیں گی، یہ دیکھنے کی بات ہو گی۔

پرینکا کے لئے پہلا چیلنج پارٹی کو ریاست میں از سر نو کھڑا کرنا ہے۔ اب جبکہ لوک سبھا انتخابات بالکل قریب ہیں، ایسے میں اتنے کم وقت میں یہ آسان نظر نہیں آ رہا۔ ذرائع کے مطابق، کسی کسی ضلع میں تو پارٹی صدر تک نہیں ہیں۔ گرام پنچایت یا بلاک سطح کا بھی کوئی لیڈر نہیں ہے۔

دوسرا چیلنج پرینکا گاندھی کے لئے اپنے شوہر پر عائد الزامات کا سامنا کرنا ہے۔ پرینکا جب یوپی بالخصوص مشرقی اترپردیش جس کی ذمہ داری انہیں دی گئی ہے، انتخابی تشہیر کے لئے وہاں جائیں گی تو وہاں انہیں اپنے شوہر رابرٹ واڈرا پر لگے الزامات کا سامنا بھی کرنا ہو گا۔ واڈرا پر ڈی ایل ایف زمین گھوٹالے اور بیرون ملک منی لانڈرنگ کیس میں ان کی املاک ہونے کا الزام ہے۔ ای ڈی اس معاملہ میں ان سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔

تیسرا چیلنج پارٹی کے لئے مضبوط امیدواروں کو تلاش کرنا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ پارٹی کو ریاست میں رہنماوں کے بحران کا سامنا ہے، ان کے لئے ہر ایک انتخابی حلقہ میں ایسا مضبوط امیدوار کھڑا کرنا جو کم از کم مقابلہ میں رہے، مشکل ہی نظر آتا ہے۔

چوتھا چیلنج بی جے پی جیسی ریاستی اور قومی سطح پر مضبوط پارٹی کو سخت ٹکر دینے کے لئے ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد میں کانگریس کے لئے بھی راہ ہموار کرنا ہے۔ حالانکہ دونوں ہی پارٹیاں آپس میں اتحاد کا اعلان کر چکی ہیں اور کانگریس کو اس اتحاد سے الگ کر دیا ہے۔ لیکن اب جبکہ پرینکا گاندھی نے سرگرم سیاست میں قدم رکھ دیا ہے، ذرائع کے حوالہ سے ایسا کہا جا رہا ہے کہ دونوں ہی پارٹیاں اب ایک بار پھر اتحاد پر غور کر سکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں پرینکا گاندھی کو بھی پیش رفت کرنا ہو گی اور بات چیت کے ذریعہ کسی نتیجہ پر پہنچنا ہو گا۔

Loading...