انتخابات کے بائیکاٹ کا شاخسانہ، بی جے پی کشمیر میں اپنی جیت کا کھاتہ کھولنے میں کامیاب

بی جے پی ایک طویل انتظار اور کشمکش کے بعد کشمیر میں اپنی جیت کا کھاتہ کھولنے میں کامیاب ہوئی ہے

Oct 20, 2018 01:52 PM IST | Updated on: Oct 20, 2018 01:52 PM IST
انتخابات کے بائیکاٹ کا شاخسانہ، بی جے پی کشمیر میں اپنی جیت کا کھاتہ کھولنے میں کامیاب

جموں وکشمیر میں گزشتہ آٹھ اکتوبر مقامی بلدیاتی انتخابات کے دوران لوگ ووٹ دینے کے لئے قطار میں کھڑے ہوئے

 جموں وکشمیر میں رواں ماہ چار مرحلوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے دو اہم علاقائی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی دوری وادئ کشمیر میں اب تک ایک جیت کے لئے تشنہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لئے بیساکھی ثابت ہوئی ہے۔ بی جے پی ایک طویل انتظار اور کشمکش کے بعد کشمیر میں اپنی جیت کا کھاتہ کھولنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ہفتہ کی صبح جب بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر (ایس کے آئی سی سی) کے لانز میں بیٹھے صحافیوں تک یہ اطلاع پہنچی کہ سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس یم سی) کے حلقہ نمبر 74 باغ مہتاب شنکر پورہ سے بھاجپا امیدوار بشیر احمد میر انتخابی میدان مارنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حلقہ نمبر 74 کے لئے 6 پولنگ مراکز قائم کئے گئے تھے جن پر ڈالے جانے والے ووٹوں کی تعداد محض 9 تھی۔ انتخابی نتائج کے مطابق ان 9 ووٹوں میں سے 8 ووٹ بشیر احمد کے حق میں پڑے ہیں۔ حلقہ نمبر 74 کے لئے 8 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت ووٹ ڈالے گئے تھے۔ اس سے قبل مرکز میں برسراقتدار بی جے پی نے خطہ لداخ کے ضلع کرگل میں رواں برس اگست کے اواخر میں ہونے والے لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل (کرگل) کے چوتھے عام انتخابات میں زانسکر کی چھا نشست پر کامیابی حاصل کرکے ان انتخابات میں اپنی جیت کا کھاتہ کھول دیا تھا۔ چھا کی نشست پر بی جے پی امیدوار سٹینزن لکپا نے جیت درج کی تھی۔ وہ 30 ووٹوں کے معمولی فرق سے جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

بی جے پی نے حلقہ نمبر 74 پر بی جے پی امیدوار کی جیت کو بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ پارٹی کے جموں وکشمیر یونٹ کے صدر رویندر رینہ نے جموں میں پارٹی دفتر ترکوٹہ نگر میں نامہ نگاروں کو بتایا ’ایس ایم سی کے حلقہ نمبر 74 میں 12 امیدوار میدان میں تھے۔ بی جے پی کے امیدوار نے 36 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ بی جے پی کے لئے ایک بہت بڑی جیت ہے۔ بی جے پی نے بہت اچھا آغاز کیا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے تھے کہ بی جے پی امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوئے ہیں، وہ ذرا یہ انتخابی نتائج دیکھ لیں۔ بی جے پی لڑ کر جیت رہی ہے‘۔

بتا دیں کہ ریاست کی دو بڑی علاقائی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کا مطالبہ تھا کہ مرکزی سرکار پہلے دفعہ 35 اے پر اپنا موقف واضح کرے اور پھر وہ کسی انتخابی عمل کا حصہ بنیں گی۔ قومی سطح کی دو جماعتوں سی پی آئی ایم اور بی ایس پی نے بھی ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ کشمیر کی علیحدگی پسند جماعتوں بالخصوص مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے علاوہ جنگجو تنظیموں نے لوگوں کو بلدیاتی انتخابات سے دور رہنے کے لئے کہا تھا۔

Loading...

کشمیر کے سینئر صحافی احمد علی فیاض کے مطابق علاقائی جماعتوں این سی اور پی ڈی پی کی بلدیاتی انتخابات سے دوری اور علیحدگی پسند جماعتوں کی طرف سے دی گئی ’لاتعلقی اختیار کرنے کی کال‘ کا یہ نتیجہ نکلا کہ وادی کے سات اضلاع میں بھاجپا کے 100 امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوئے۔ ان کے مطابق اننت ناگ میں 30، بارہمولہ میں 24، شوپیان میں 13، بڈگام میں 11، کولگام میں 10 ، پلوامہ میں 9 اور کپوارہ میں 3 بھاجپا امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار پائے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بی جے پی ریاست میں سنہ 2014 کے اسمبلی انتخابات میں مشن 44 (یعنی 87 اراکین پر مشتمل ریاستی اسمبلی میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے کم از کم 44 نشستوں کے حصول)کے ہدف کے ساتھ میدان میں اتری تھی۔ تاہم وادی کشمیر میں قریب دو درجن امیدوار میدان میں اتارنے کے باوجود پارٹی کو کسی ایک بھی نشست پر جیت نصیب نہیں ہوئی تھی۔ اس نے بعد ازاں پی ڈی پی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی۔

Loading...