sadhvi pragya singh said in bhopal i had demolished the babri masjid now will built the ram temple in ayodhya election commission has given the notice ns– News18 Urdu

سادھوی پرگیہ نےکہا 'ہم نےمسمارکی تھی بابری مسجد، اب بنائیں گےرام مندر'، الیکشن کمیشن نے جاری کیا نوٹس

سادھوی پرگیہ نے کہا کہ وہ نہ صرف بابری مسجد کے اوپرچڑھی تھیں بلکہ اسے مسمارکرنے میں بھی مدد کی تھی۔

Apr 21, 2019 10:36 AM IST | Updated on: Apr 21, 2019 10:36 AM IST

بھوپال سے بی جے پی امیدوارسادھوی پرگیہ ٹھاکرنے اپنے ایک اوربیان سے ہنگامہ برپا کردیا ہے۔ سادھوی پرگیہ نے ہفتہ کو تشہیری مہم کے دوران ایک ٹی وی چینل کو دیئے انٹرویود میں کہا کہ 'رام مندریقینی طورپربنایا جائے گا۔ یہ ایک شاندارمندرہوگا'۔ یہ پوچھے جانے پرکہ کیا وہ رام مندربنانے کے لئے ڈیڈ لائن بتا سکتی ہیں، تو پرگیہ ٹھاکرنے کہا 'ہم مندرکی تعمیرکریں گے۔ آخرکارہم ڈھانچہ (بابری مسجد) کومسمارکرنے کے لئے بھی توگئے تھے'۔

سادھوی پرگیہ سنگھ نے بابری مسجد میں اپنے اہم رول پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف بابری مسجد کے اوپرچڑھی تھیں بلکہ اسے گرانے میں بھی مدد کی تھی۔ انہوں نے کہا 'میں نے بابری مسجد پرچڑھ کرتوڑا تھا۔ مجھے فخرہے کہ ایشور(خدا) نے مجھے موقع دیا اورطاقت دی اورمیں نے یہ کام کام کردیا۔ اب وہیں رام مندربنائیں گے'۔

سادھوی پرگیہ نےکہا 'ہم نےمسمارکی تھی بابری مسجد، اب بنائیں گےرام مندر'، الیکشن کمیشن نے جاری کیا نوٹس

سادھوی پرگیہ ٹھاکرنے بابری مسجد سے متعلق متنازعہ بیان دے دیا۔

پرگیہ سنگھ ٹھاکرکے اس بیان کا الیکشن کمیشن نے بھی فوری طورپرنوٹس لیتے ہوئے انہیں ضابطہ اخلاق نافذ کرنے کا نوٹس دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، مدھیہ پردیش کے چیف الیکشن کمشنروی ایل کانتا نے وارننگ دیتے ہوئے سبھی سیاسی جماعتوں کوایڈوائزری بھی جاری کی ہے، جس میں انہوں نے کہا 'باربارالیکشن کے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی) کی جارہی ہے اورقابل اعتراض زبان کا استعمال کرنے کی وجہ سے سخت کارروائی ہوسکتی ہے'۔

سادھوی پرگیہ نے حال ہی میں 2008 کے ممبئی حملے میں شہید ہوئے اس وقت کے اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے پرقابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے ہیمنت کرکرے کی شہادت پرسوال اٹھاتے ہوئے انہیں شراپ (بد دعا) دینے کی بات کہی تھی۔ حالانکہ اس کے بعد بی جے پی نے پرگیہ ٹھاکرکے بیان سے خود کو علیحدہ کرتے ہوئے اسے ان کا ذاتی بیان قرار دیا تھا۔ اس پورے معاملے پرجب زبردست فضیحت ہوئی توانہوں نے بھی معافی مانگی، لیکن اب انتخابی تشہیرکےدرمیان پرگیہ ٹھاکرنے بابری مسجد معاملے کواٹھاکرالیکشن میں پولرائزیشن کرنے کی کوشش کی ہے۔