ہندی کو آٹھویں کلاس تک لازمی کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت سے انکار

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے ملک کے تمام اسکولوں میں آٹھویں کلاس تک ہندی کو لازمی بنانے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت سے آج انکار کر دیا۔

May 04, 2017 02:51 PM IST | Updated on: May 04, 2017 02:51 PM IST

نئی دہلی۔  سپریم کورٹ نے ملک کے تمام اسکولوں میں آٹھویں کلاس تک ہندی کو لازمی بنانے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت سے آج انکار کر دیا۔ چیف جسٹس جے ایس کیہر کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ وہ اس طرح کا کوئی حکم منظور نہیں کر سکتی۔ جسٹس کیہر نے کہا، ’’ہم اس طرح کا حکم نہیں دے سکتے۔ کل کوئی اور آ کر کہے گا کہ سنسکرت کوبھی لازمی بنایا جائے، کوئی پنجابی کو لازمی کرنے کا مطالبہ کرے گا۔‘‘

عدالت نے درخواست گزار بھارتیہ جنتا پارٹی کی دہلی یونٹ کے ترجمان اشونی اپادھیائے کی درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ ہندی کو فروغ دینے کے لئے حکومت خود ہی کافی کوشش کر رہی ہے۔ یہ پالیسی فیصلے ہیں اور اس طرح کا کوئی حکم عدالت کس طرح پاس کر سکتی ہے۔ مسٹر اپادھیائے کی جانب سے جرح کر رہے سینئر وکیل آر ایس سوری نے بعد میں عرضی واپس لے لی۔

ہندی کو آٹھویں کلاس تک لازمی کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت سے انکار

سپریم کورٹ آف انڈیا: فائل فوٹو

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز