پاکستان امن کا پیغام لے کرگیا تھا، ، جس کا اثر نظرآنے لگا ہے: نوجوت سنگھ سدھو

نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا ہے کہ ان کی کتنی بھی تنقید ہو، لیکن کرتارپور صاحب کے درشن کے لئے پاکستان کی سرحد کھولی جانی چاہئے۔

Aug 31, 2018 10:06 PM IST | Updated on: Aug 31, 2018 10:06 PM IST
پاکستان امن کا پیغام لے کرگیا تھا، ، جس کا اثر نظرآنے لگا ہے: نوجوت سنگھ سدھو

نوجوت سنگھ سدھو: فائل فوٹو

پنجاب حکومت کے وزیراورسابق کرکٹرنوجوت سنگھ سدھو کا کہنا ہے کہ چاہے ان کی جتنی بھی تنقید ہو، لیکن کرتار پور صاحب کے درشن کے لئے پاکستان کی سرحد کھولی جانی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امن کا پیغام لے کر گئے تھے اور اب اس کا اثر نظرآنے لگا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی کی بھی تنقید نہیں کرنا چاہتے، نہ ہی کسی طرح کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ ان کا اشارہ ہندوستانی سفارت خانہ کے افسران کی کرتارپورصاحب کے سفرکی جانب تھا۔ نیوز18 سے خاص بات چیت میں اپنے اندازمیں کہا کہ گرو (استاد) کی ڈکشنری میں ناممکن کچھ بھی نہیں ہوتا۔

Loading...

سدھو نے کہا کہ یہ کسی ایک کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ مشترکہ معاملہ ہے۔ ہلچل شروع ہوچکی ہے اورجلد ہی اسے حقیقت میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا جاسکے گا۔

یہ سوال کئے جانے پرکہ کیا پاکستان سفرکے دوران ان کے ذہن میں کرتارپورصاحب کی بات پہلے سے تھی۔ سدھو کہتے ہیں کہ نہیں ان کے دماغ میں یہ بات بالکل نہیں تھی کیونکہ وہ دوست کے طور پر گئے تھے۔ وہاں انہیں اگلی قطار میں پاکرباجوا نے ان سے بات چیت کی اورکرتار پورصاحب مسئلے کا ذکر کیا۔

بین الاقوامی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے سدھو نے کہا کہ اگر دونوں پنجاب ایک ساتھ ہوجائیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں رہ جائے گا۔ جب خان صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان ایک قدم چلے تو وہ دو قدم چلیں گے، پھر کیا پریشانی ہے۔ پانی کو لے کر ملک میں تمل ناڈو کے علاوہ پنجاب اور ہریانہ کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے اور دوسری طرف پاکستان سے انڈس واٹرمعاہدہ کی بات اٹھ رہی ہے۔ پاکستان کی اس پہل کو وہ بھی مثبت مانتے ہیں۔ ؎

سدھو کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ گئے تھے، لیکن نتیجہ کیا رہا۔ واجپئی جی گئے اور کارگل ہوا۔ سینکڑوں جوان شہید ہوئے۔ مودی جی گئے، پٹھان کوٹ ہوگیا، وہ دعویٰ کرتے ہیں ایک سدھو گیا اوراس نے امن کی بات کی۔ خوب پیار ملا، یہاں لوگوں نے بے کار میں ہنگامہ کردیا۔

یادویندر سنگھ کی رپورٹ

 

 

Loading...