اترپردیش: ممتازاحمد نے دوقیدیوں کے جرمانے کی رقم ادا کرکے پیش کی انسانیت کی مثال– News18 Urdu

اترپردیش: ممتازاحمد نے دوقیدیوں کے جرمانے کی رقم ادا کرکے پیش کی انسانیت کی مثال

وزیراعظم نریندر مودی کے 68 ویں یوم پیدائش پر68 قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن طریقہ کارانتہائی مضحکہ خیز ہے۔

Sep 17, 2018 10:17 PM IST | Updated on: Sep 17, 2018 10:21 PM IST

اترپردیش: ممتازاحمد نے دوقیدیوں کے جرمانے کی رقم ادا کرکے پیش کی انسانیت کی مثال

دونوں قیدیوں کو رہاکرانے کے بعد ممتاز احمد جیل کے افسران۔

اترپردیش کے سدھارتھ نگر ضلع کے اٹواعلاقے میں آج ایک سینئرسماجی وسیاسی کارکن ممتاز احمد نے انسانیت کی مثال پیش کرتے ہوئے دو قیدیوں کے جرمانے کی رقم جمع کرکے انہیں جیل سے رہا کرایا۔ اطلاعات کے مطابق سزا کی مدت پوری کرچکے دونوں قیدیوں کوجرمانے کی دائیگی کے بعد وزیراعظم  نریندر مودی کے 68 ویں یوم پیدائش پررہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

بی ایس پی کے سینئر لیڈراورشہرت گڑھ اسمبلی حلقہ سے تین بار قسمت آزماچکے ممتاز احمد جیلرکے رابطہ کرنے کے بعد  ان دونوں لاوارثوں کے لئے مسیحا اورسہارا بن کرآئے اورانہوں نےدونوں قیدیوں کے جرمانے کی رقم ادا کرکے انہیں رہا کراکرانسانیت کی بہترین مثال پیش کی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے یوم پیدائش کے موقع پراترپردیش میں 68 قیدیوں کورہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس میں سدھارتھ نگر ضلع کے گڈو جیسوال اورمحمد رفیق نامی دو قیدیوں کا نام بھی شامل تھا۔ جھکہیا گاوں کے باشندہ رفیق اورڈھبروا تھانہ کے کٹھیلا کوٹھی گاوں کے باشندہ گڈوجیسوال اپنی سزامکمل کرنے کے بعد بھی نہیں رہا ہورہے تھے، کیونکہ کوئی جرمانے کی رقم ادا کرنے والا نہیں تھا، لیکن پولیس  افسران نے آج وزیراعظم نریندر مودی کی یوم پیدائش پران دونوں قیدیوں کورہا کرانے کے لئے ممتاز احمد سے رابطہ کیا، جس کے بعد انہوں نے یہ رقم جمع کرادی اوروہ دونوں قیدی رہا ہوگئے۔

ممتاز احمد نے نیوز 18 اردو سے ٹیلیفونک بات چیت میں سسٹم کو مضحکہ خیز بتاتے ہوئے کہا کہ ضلع کے افسران نے پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی یوم پیدائش پر ضلع کے ان دونوں قیدیوں کو رہا کیاجائے گا، کیونکہ وہ سزا کی مدت پوری کرچکے ہیں، لیکن وہ جرمانے کی رقم ادا نہیں کرپارہے ہیں، اس لئے کسی کو ان کی رقم جمع کرنی ہوگی، ورنہان قیدیوں کو بغیرجرمانے کے رہا کیاجانا چاہئے تھا۔

انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ان قیدیوں کے پاس رقم نہیں ہے توپھر وزیراعظم کی یوم پیدائش پریہ کیسا تحفہ ہے؟ انہوں نے حکومت کو اپنے فیصلے پرغورکرلینا چاہئے تھا، کہ سزا کی مدت طرح کے قیدیوں کے جرمانے کی رقم حکومت کے فنڈ سے جمع کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے انسانیت کی بنیاد پریہ رقم جمع کرادی ہے اورآگے بھی اس طرح کے کام انجام دیتا رہوں گا، لیکن اس معاملے میں جوحوالہ دیا گیا، وہ سمجھ سے باہر ہے۔

ممتاز احمد نے بتایا کہ اترپردیش پولیس کا جو حکم نامہ تھا، اس میں لکھا گیا تھا کہ پوری ریاست میں جو 68 قیدی اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں اوروہ جرمانے کی رقم ادا نہیں کررہے ہیں، کسی سماجی تنظیم یا این جی اوسے رقم جمع کرادی جائے اورانہیں رہا کردیا جائے۔ میرا ماننا ہے کہ اس طرح کے سسٹم پردوبارہ غورکیاجانا چاہئے، تاکہ اسے بہتر بنایا جاسکے۔

واضح رہے کہ ملک  کے مختلف جیلوں میں ایسے بہت سے ملزمین قید ہیں، جو اپنی سزا کی مدت پوری کرچکے ہیں، لیکن وہ جرمانے کی رقم ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لئے انہیں جیلوں میں بند رکھا جاتا ہے، جس کا مزید بوجھ حکومت کو برداشت کرنا پڑتا ہے اورمجرموں کو اپنی زندگی بہتر بنانے کا موقع نہیں ملتا ہے۔