supreme court order kolkata police commissioner rajiv kumar to appear in front of cbi will not be arrested– News18 Urdu

سپریم کورٹ کا حکم، سی بی آئی کے سامنے پیش ہوں پولیس کمشنرراجیوکمار، نہیں ہوگی گرفتاری

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ممتا بنرجی کا کہنا ہےکہ راجیوکمارنے کبھی ایسا نہیں کہا ہےکہ وہ سی بی آئی کے سامنے نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسی جگہ پرملنا چاہتے ہیں، جو دونوں کے لئےمفید ہو۔

Feb 05, 2019 11:58 AM IST | Updated on: Feb 05, 2019 12:08 PM IST

چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے فیصلہ دیا ہے کہ کولکاتا پولیس کمشنرراجیوکمارکو پوچھ گچھ کے لئے سی بی آئی کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ اس پرممتا بنرجی حکومت کی طرف سے ابھیشیک منوسنگھوی نے دلیل دی ہے کہ سی بی آئی سرینڈرکرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ اس پرعدالت نے سی بی آئی کواحکامات دیئے ہیں کہ راجیو کمارکوگرفتارنہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ راجیوکمارنے کبھی ایسا نہیں کہا ہے کہ وہ سی بی آئی کے سامنے نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسی جگہ پرملنا چاہتے ہیں، جو دونوں کے لئے مفید ہو۔ اگر آپ کوکوئی وضاحت چاہئے تو آپ آکرپوچھ سکتے ہیں، ہم اس پرتبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔  سپریم کورت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ راجیو کمارکوسی بی آئی کے سامنے آنا ہوگا، لیکن راجیوکمارکوگرفتارنہیں کیا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا حکم، سی بی آئی کے سامنے پیش ہوں پولیس کمشنرراجیوکمار، نہیں ہوگی گرفتاری

ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ ہمیں عدلیہ پرمکمل یقین ہے۔

Loading...

ممتا بنرجی نے کہا کہ 'عدلیہ پرہمارا مکمل یقین ہے۔ اس سے افسران کی خوداعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ ہرریاست میں ایک منتخب حکومت ہے، ریاست اورمرکز کی اپنی الگ الگ سرحدیں ہیں، اگرمرکزکی مشینری اسٹیٹ کی مشینری کوگرفتارکرنے آئے توہم روکیں گے نہیں، لیکن یہ ایک آئینی رکاوٹ تھی'۔

اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ سی بی آئی کے افسران کوحراست میں لیا گیا۔ جوائنٹ ڈائریکٹرکوپولیس نے گھیرلیا۔ ان کی بیوی گھرپرتھی، اس لئے انہوں نے دروازہ نہیں کھولا۔ جب انہوں نے میڈیا کوفون کرنے کی دھمکی دی، تب پولیس والے وہاں سے گئے۔ یہ آئینی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ اس لئے توہین عدالت کی کارروائی کی مانگ کرتے ہیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے ڈی جی پی، چیف سکریٹری اورراجیوکمارکے خلاف ہتک عزت کی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس پرانہیں روکتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ پولیس کمشنرراجیوکمارکے پاس جانچ میں تعاون نہیں کرنے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ عدالت کی توہین کولے کرہم بعد میں غورکریں گے۔

اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے سپریم کورٹ میں کہا کہ معاملہ سی بی آئی کودیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے ثبوت جمع کئے۔ 2014 سے 2017 کے درمیان ثبوت جمع کرنے کے بعد ہم گرفتاری کے لئے آگے بڑھے۔ ہم نے ایس آئی ٹی کوسمن بھیجے کیونکہ ہمیں دیئے گئے ثبوت پورے نہیں تھے، یا ان کے ساتھ چھیڑچھاڑکی گئی تھی۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے مغربی بنگال کے ڈی جی پی سے کہا کہ وہ جانچ میں مدد کریں۔ راجیوکمارایس آئی ٹی کے سربراہ تھے۔ ہم نے ڈی جی پی سے تفصیل طلب کی کیونکہ ایس آئی ٹی سے ملے دستاویزپرہمیں شک تھا۔

Loading...