سپریم کورٹ کا پاريكر کی حلف برداری پر روک سے انکار، 16 مارچ کو اسمبلی میں فلور ٹسٹ کا حکم

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے گوا کے وزیر اعلی کے طور پر مسٹر منوہر پاریکر کی حلف برداری پر روک لگانے سے آج انکار کرتے ہوئے اسمبلی میں فلور ٹسٹ کرنے کے لئے 16 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔

Mar 14, 2017 01:17 PM IST | Updated on: Mar 14, 2017 01:59 PM IST
سپریم کورٹ کا پاريكر کی حلف برداری پر روک سے انکار، 16 مارچ کو اسمبلی میں فلور ٹسٹ کا حکم

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے گوا کے وزیر اعلی کے طور پر مسٹر منوہر پاریکر کی حلف برداری پر روک لگانے سے آج انکار کرتے ہوئے اسمبلی میں فلور ٹسٹ کرنے کے لئے 16 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔ چیف جسٹس جے ایس کیہر کی صدارت والی بنچ نے درخواست گزار چندرکانت كانویكر کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی اور مرکزی حکومت کی جانب سے ہریش سالوے کی دلیلیں سننے کے بعد کہا کہ وہ مسٹر پاریکر کی حلف برداری کی تقریب پر روک نہیں لگائے گي۔ عدالت نے گوا اسمبلی میں 16 مارچ کو 11 بجے طاقت کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا۔ کورٹ نے 15 مارچ تک فلور ٹسٹ کرنے سے متعلق ضابطہ کی کارروائی پوری کرنے کا بھی حکم دیا۔

تقریباً پونے دو گھنٹے تک جاری رہی بحث پر غور کرنے کے بعد عدالت نے کہا کہ وہ حلف برداری کی تقریب پر روک لگانے کے حق میں نہیں ہے۔عدالت عظمی نے درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کردی کہ اس درخواست میں اٹھائے گئے تمام پہلوؤں کا صرف ایک جواب ہے فلور ٹسٹ، جس کے لئے جمعرات (16 مارچ) کے 11 بجے کا وقت مقرر کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے عدالت عظمی نے مسٹر سنگھوی سے کئی اہم سوال کئے۔ جسٹس کیہر نے پوچھا کہ اگر کانگریس کے پاس اکثریت تھی تو اس نے گورنر کے سامنے جا کر اس کا دعوی کیوں پیش نہیں کیا یا راج بھون کے باہر دھرنا کیوں نہیں دیا؟ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں ان ممبران اسمبلی کی تعداد کا بھی ذکر نہیں کیا ہے، جو کانگریس کی حمایت میں ہیں۔ کورٹ نے کہا، ’اگر آپ (کانگریس کے) کے پاس اکثریت تھی تو آپ ممبران اسمبلی کا حلف نامہ کیوں نہیں ساتھ لائے، جس سے آپ کی اکثریت ثابت ہو سکے۔‘ اس پر مسٹر سنگھوی نے کہا، ’کانگریس کے پاس مکمل اکثریت ہے اور وہ آج بھی فلور ٹسٹ میں شامل ہونے کو تیار ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ گورنر نے تعصب میں مبتلا ہو کر بی جے پی کو حکومت بنانے کی دعوت دی ہے، جبکہ کانگریس وہاں سب بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔اس پر عدالت نے واضح کیا کہ سب سے بڑی پارٹی کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کرنا ممبران کی تعداد پر انحصار کرتا ہے۔

کانگریس لیڈر نے مسٹر پاریکر کے وزیر اعلی کے طور پر حلف برداری کی تجویز کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حلف برداری کی تقریب پر روک کی مانگ کی تھی۔ درخواست گزار کی دلیل تھی کہ 40 رکنی گوا اسمبلی میں کانگریس 17 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 13 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود دوسرے نمبر کی پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا گیا ہے جو غیر قانونی ہے۔

عدالت عظمی میں پورے ہفتے چھٹی ​​تھی، لیکن معاملے کی سنجیدگی کے پیش نظر چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے عرضی کو آج سماعت کے لئے درج کیا گیا تھا۔

Loading...

واضح رہے کہ مسٹر پاریکر شام پانچ بجے گوا کے وزیر اعلی کے طور پر حلف لینے والے ہیں۔ مسٹر پاریکر نے وزیر دفاع کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

Loading...