شادیوں میں اسراف : تلنگانہ کے نرمل میں علمائے کرام نے کی پہل ۔ کیا یہ بڑا فیصلہ

غیر شرعی اموروالی تقاریب میں علماء، ائمہ مساجد اور مذہبی تنظیموں کا کوئی بھی نمائند شریک نہ ہو۔عوام کی ذہن سازی کے لئے ائمہ کرام جمعہ کے موقع پر قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی برائی کو بیان کریں۔

Jul 13, 2019 04:16 PM IST | Updated on: Jul 13, 2019 04:21 PM IST
شادیوں میں اسراف : تلنگانہ کے نرمل میں علمائے کرام نے کی پہل ۔ کیا یہ بڑا فیصلہ

علامتی تصویر

مدرسہ روضۃ العلوم نرمل تلنگانہ میں شہرنرمل کی مساجد کے ائمہ،علمائے کرام اورمذہبی تنظیموں کے ذمہ داران کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ مولانا عبد العلیم قاسمی نائب قاضی نرمل نے کہا کہ شادی کو اسلام میں انتہائی سادگی سے انجام دینے کا تاکید کی گئی ہے لیکن آج مسلمانوں نے دشمنانِ اسلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیر رات شادی خانوں میں ڈی جے لگاکر ناچ گانا کرتے ہوئے خوشی کے مواقع کو مخلوق کی ایذاء کا سبب اور اللہ کے غضب کو دعوت دینے کا ذریعہ بنالیا ہے اور یہ معاشرے کا بدترین فیشن بنتے جارہاہے،اولین فرصت میں اس پر روک لگانا بے حد ضروری ہے۔

جمعیۃ علماء ضلع نرمل کے جنرل سکرٹری مفتی الیاس احمد قاسمی نے کہا کہ ایسی حرکتوں پر روک لگانے کے لئے پوری علماء وحفاظ اور ائمہ مساجد کو ایک ضروری اور اہم اقدام یہ اٹھانا ہوگا کہ وہ باضابطہ طور پر یہ اعلان کریں کہ ناچ گانا اسلام میں حرام ہے اس لیے جہاں ڈی جے ہوگا یا جہاں موسیقی اور رقص ہوگا ہم لوگ عملی طورپرایسی شادیوں کا بائیکاٹ کریں گے۔مفتی احسان شاہ قاسمی صدر صراط مستقیم سوسائٹی نرمل نے کہا کہ اصولی طور پرتمام ہی شرکاء اس کی تائید کرتے ہیں لیکن اس کے نفاذ سے قبل عوام میں بیداری لانے کی ضرورت ہے اور انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام میں موسیقی کن وجوہات کی بنا پر ممنوع ہے،عوامی سطح پر شعور بیدار کرنے کے لیے مساجد میں جمعہ کے موقع پر اسے اپنے بیانات کا موضوع بنایا جائے اور گانے بجانے کی حرمت پر مشتمل پمفلٹس تیار کرکے مساجد، عوامی مقامات پر چسپاں کیے جائیں اور اسی سے متعلق شادی خانوں میں سائن بورڈ نصب کیے جائیں تو ان شیطانی رسومات کی روک تھام میں آسانی پیدا ہوگی۔

Loading...

مفتی عبدالعلیم فیصل قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء متحدہ ضلع عادل آباد نے کہا کہ ان برائیوں کی روک تھام میں قاضی حضرات اور شادی خانوں کے مالکان کا اہم رول ہوسکتا ہے۔ قاضی حضرات یہ عزم مصمم کرلیں کہ ہم ان شادیوں میں نکاح نہیں پڑھائیں گے جس میں ڈی جے ہوگا یاجہاں موسیقی اوررقص ہوگانیز فنکشن ہال کے مالکان شادی خانے کی بکنگ کے وقت ہی سرپرست لوگوں کو شادی خانے میں ناچ گانے آتش بازی جیسی خرافات سے باز رہنے کی سختی کے ساتھ تاکید کردیں۔

اجلاس میں میں شرکاء کی باہمی مشاورت کے بعد شادی کی تقاریب میں ہورہے بے جا رسوم ورواج کے خاتمے کے ضمن میں اولین قدم کے طورپر مندرجہ ذیل امور طئے پائے۔ ان غیر شرعی اموروالی تقاریب میں علماء، ائمہ مساجد اور مذہبی تنظیموں کا کوئی بھی نمائند شریک نہ ہو۔عوام کی ذہن سازی کے لئے ائمہ کرام جمعہ کے موقع پر قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی برائی کو بیان کریں۔ شادی خانوں کے مالکین کو تاکید کی جائے کہ ایسی کوئی تقریب بک نہ کریں جس میں ناچ گانا ڈیجے آتش بازی مرفع وغیرہ کا ارتکاب ہو ۔بڑی بڑی فلکسیاں بناکرشادی خانوں اور عوامی مقامات پر لگائی جائیں۔

Loading...