terrorist mushtaq ahmed zargar head of banned terrorist organisation al umar mujahideen attacked police party in anantnag jammu and kashmir snm بیس سال بعد کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے لوٹ یا ہے یہ خطرناک دہشت گرد– News18 Urdu

بیس سال بعد کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے لوٹ یا ہے یہ خطرناک دہشت گرد

وادی کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے لوٹ آیا ہے مسعود اظہر کا پراناساتھی، وزیر داخلہ کی بیٹی کا کیا تھا اغوا

Jun 13, 2019 06:58 AM IST | Updated on: Jun 13, 2019 06:58 AM IST

جموں۔کشمیر کے اننت ناگ میں ہوئے ایک دہشت گردانہ حملے میں سی آرپی ایف کے 5 جوان شہید ہوگئے۔ اس دوران سکیورٹی اہلکاروں نے ایک دہشت گرد کو بھی مار گرایا ہے۔  سی آر پی ایف کے افسران کے مطابق  یہ حملہ کے پی جنرل بس اسٹینڈ کے پاس کیا گیا ۔ گاڑی میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے سکیورٹی فورسز پراچانک گولی چلانی شروع کردی۔

سی آر پی ایف کے جوانوں کو لا اینڈ آرڈر بنائے رکھنے کیلئے ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا تھا ۔ زخمی جوانوں کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے۔

بیس سال بعد کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے لوٹ یا ہے یہ خطرناک دہشت گرد

قابل غور ہے کہ مشتاق احمد زرغار کا نام 12 اگست 1989 کو اس وقت کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ کے اغوا میں بھی سامنے آیا تھا۔

اس حملے میں سی آرپی ایف کے ایس آئی نہرو شرما، کانسٹیبل ستیندر شرما، کانسٹیبل ایم کے کشواہ شہید ہوگئے ہیں۔ زخمیوںمیں ایس ایچ او اننت ناگ ارشد احمد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ انہیں علاج کیلئے سری نگر لے جایا گیا ہے۔ جبکہ کیدار ناتھ، راجیندر سنگ ھکا ننت ناگ ضلع میں علاج چل رہا ہے۔ حملے میں 18 سالہ ایک مقامی خاتون بھی زخمی ہوئی ہے جس کی پہچان صنوبر جین کے طور پر ہوئی ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری العمرمجاہدین دہشت گردتنظیم نے لی ہے۔

Loading...

یہ تنظیم العمر مجاہدین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا بریک اوے فیکشن ہے جو کہ1989 میں اس سے الگ ہوا تھا۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ تنظیم تقریبا ایکٹو نہیں تھی اور اس حملے کا اب وہ دعوی کر رہی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع کے مطابق اس طریقے کے حملے کرکے دہشت گرد امرناتھ یاترا سے پہلے وادی میں اپنی طاقت دکھانے کے فراق میں ہیں۔

کشمیر نیوز ایجنسی جی این ایس کے مطابق ، العمر مجاہدین دہشت گرد تنظیم کا سربراہ مشتاق احمد زرغار ہے۔ زرغار دہشت گرد تنظیم پاکستان سے رن کرتا ہے۔ چھوٹنے بعد سے زرغار خاموش تھا لیکن 20 سالوں بعد وہ پھر سے ایکٹو ہوچکا ہے۔

قابل غور ہے کہ مشتاق احمد زرغار کا نام 12 اگست 1989 کو اس وقت کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ کے اغوا میں بھی سامنے آیا تھا۔

Loading...