ٹیپو سلطان جینتی: بی جے پی کی دھمکی کے بعد کرناٹک کے کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ

کرناٹک حکومت 2016 سے ٹیپو سلطان کی جینتی منا رہی ہے، جبکہ بی جے پی نے اس پروگرام کو روکنے کی دھمکی دی ہے

Nov 10, 2018 10:09 AM IST | Updated on: Nov 10, 2018 10:27 AM IST
ٹیپو سلطان جینتی: بی جے پی کی دھمکی کے بعد کرناٹک کے کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ

کرناٹک میں ٹپیو سلطان کی جینتی منانے کو لے کر ہنگامہ جاری ہے

کرناٹک میں ٹیپو سلطان کی جینتی منانے کو لے کر ہنگامہ جاری ہے۔ کرناٹک حکومت 2016 سے  ٹیپو سلطان کی جینتی منا رہی ہے۔ جبکہ بی جے پی نے اس پروگرام کو روکنے کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد ہبلی، دھارواڑ اور شموگا سمیت کرناٹک کے کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس بار جینتی پر کئی پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ٹیپو جینتی پر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔

دفعہ 144 نافذ ہونے سے ایک دن پہلے بی جے پی نے جے ڈی ایس اور کانگریس حکومت سے جشن نہ منانے کی اپیل کی تھی۔ ساتھ ہی بنگلورو، میسور اور کوڈاگو سمیت متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔ 10 اور 11 نومبر کو صبح چھ بجے اور سات بجے سے ان دونوں شہروں میں کرفیو لگا دیا جائے گا۔ اس دوران ایک ہی جگہ پر چار سے زیادہ لوگ اکھٹا نہیں ہو سکتے۔

Loading...

اس معاملہ پر اتحادی حکومت کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کہا کہ پچھلی کانگریس حکومت کی پالیسی کو جاری رکھنے کے لئے 10 نومبر کو ٹیپو سلطان کی جینتی منائی جائے گی۔ ان کے اس بیان کے بعد بی جے پی نے پروگرام کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، ابھی یہ طے نہیں ہے کہ کمارسوامی اہم تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں یا سوامی کون سے پروگرام کا افتتاح کریں گے۔

حالانکہ ڈاکٹروں کے مشورہ کی بنیاد پر وزیر اعلی دفتر سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری تقریب میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ گوڑا کنبہ کے ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ ان کا کنبہ ٹیپو سلطان کی جینتی منانے کو اپنی بدقسمتی سے تعبیر کرتا ہے۔ کیونکہ کئی لوگ ٹیپو سلطان کو "آمر حکمراں" مانتے ہیں۔

Loading...