کیشو پرساد موریہ کے نام پر لڑا گیا الیکشن اوروزیراعلیٰ بن گئے یوگی: اوم پرکاش راج بھر– News18 Urdu

کیشو پرساد موریہ کے نام پر لڑا گیا الیکشن اوروزیراعلیٰ بن گئے یوگی: اوم پرکاش راج بھر

اترپردیش کی یوگی حکومت پر مسلسل حملہ آور کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر نے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی شکست کے لئے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اسمبلی الیکشن کیشو پرساد موریہ کے نام پر لڑا گیا اور وزیراعلیٰ یوگی بن گئے۔

Jun 03, 2018 11:11 PM IST | Updated on: Jun 03, 2018 11:16 PM IST

لکھنو: اترپردیش کی یوگی حکومت پر مسلسل حملہ آور کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر نے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی شکست کے لئے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

اپنے بیانات سے مسلسل تنازعہ میں گھرے رہنے والے اوم پرکاش راج بھر نے اتوار کو بہرائچ میں کہا کہ گورکھپور، پھول پور، کیرانہ ہارنے کے لئے راجا ہی ذمہ دار ہے۔ یوگی آدتیہ حکومت کے سربراہ ہیں، لہٰذا ذمہ داری ان کی ہی بنتی ہے۔

کیشو پرساد موریہ کے نام پر لڑا گیا الیکشن اوروزیراعلیٰ بن گئے یوگی: اوم پرکاش راج بھر

Loading...

اس کے ساتھ ہی اوم پر کاش راج بھر نے کہا کہ یہ بات بالکل سچ ہے کہ 2017 کا الیکشن کیشو پرساد موریہ کی قیادت میں لڑا گیا تھا۔ وہ ریاستی صدر تھے۔ انہوں نے محنت کی اور وزیراعلیٰ بنانے کی بات آئی تو یوگی آدتیہ ناتھ کو بنادیا گیا۔ وہ بھارتیہ جنتا  پارٹی کا ماننا ہے۔ اس معاملے میں گروہ بندی ان کے یہاں ہے، نہیں ہے، ہم نے تو ابھی تک ایسا کچھ نہیں دیکھا ہے، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ پسماندہ، دلت، اقلیت کی جو شراکت طے ہونی چاہئے، تھانے، تحصیل، کچہری وغیرہ میں وہ نہیں ہوپارہی ہے، یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

کیا کیشو پرساد موریہ وزیر اعلیٰ ہوتے تو حالات زیادہ بہتر ہوتی؟ اس سوال پر اوم پرکاش راج بھر نے بس اتنا کہا کہ دیکھئے پانت میں بیٹھے لوگوں میں پوڑی پروسنے والا کسی کا خاص ہوگا یا قریبی ہوگا تو اس کو تو پوڑی زیادہ دے ہی جاتی ہے۔

دلچسپ یہ ہے کہ ابھی دو دن پہلے اوم پرکاش راج بھر نے ضمنی الیکشن میں شکست کے پیچھے اپوزیشن کے اتحاد کو وجہ بتایا تھا۔ وزیر راج بھر نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ اپوزیشن کی گروہ بندی کی وجہ سے کیرانہ اور نور پور میں شکست ہوئی۔ ہم اسے اعتراف کرتے ہیں، لیکن ایک بات یہاں یہ دیکھنی ہوگی کہ اس ضمنی الیکشن میں بی جے پی کے خلاف سماجوادی پارٹی، بی ایس پی، کانگریس اور آرایل ڈی اتحاد تھا، ہماری پارٹی بھی اس ضمنی الیکشن میں شامل نہیں تھی۔ بی جے پی سبھی پارٹیوں کا اکیلے مقابلہ کررہی تھی۔ اس کے باوجود بی جے پی کی شکست کا فرق کیرانہ میں محض  50 ہزارتھا۔

راج بھر نے بتایا کہ کیرانہ میں شکست کی وجہ گنا کسانوں کی ادائیگی کا بھی رہا۔ شاید ہماری حکومت میں کچھ پریشانی رہ گئی ہوگی، لیکن افسر آج بھی نہیں بدلے ہیں۔ وہ پرانی حکومت کی طرح ہی کام کررہے ہیں۔ اہل لوگوں کو راشن کارڈ، رہائش گاہ اور بیت الخلا جیسی اسکیموں کا فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ یہ بڑی پریشانی ہے۔

ویسے سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے قومی صدر اوم پرکاش راج بھر اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت حکومت پر تمام الزامات عائد کرچکے ہیں۔ کبھی وہ شراب بندی کے لئے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں تو کبھی افسران میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔

Loading...