نسلی تعصب کی وجہ سے مجھے نہیں ملتی ہےعزت: اوم پرکاش راج بھرکا پھر چھلکا درد– News18 Urdu

نسلی تعصب کی وجہ سے مجھے نہیں ملتی ہےعزت: اوم پرکاش راج بھرکا پھر چھلکا درد

کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر نے خود کو کابینی وزیر ہوتے ہوئے نسلی تعصب کا شکار بتایا ہے۔ یوگی حکومت کے وزیر نے افسران کے ذریعہ گاڈ آف آنر نہ دیئے جانے کی وجہ سے ناراضگی کااظہار کیا ہے۔

May 10, 2018 07:46 PM IST | Updated on: May 10, 2018 07:46 PM IST

بہرائچ: بھارتیہ سماج پارٹی کے قومی صدر او ریاست کے پسماندہ طبقات کی فلاح وبہبود کے وزیر اوم پرکاش راج بھر نے خود کو کابینی وزیر ہوتے ہوئے نسلی تعصب کا شکار بتایا ہے۔ یوگی حکومت میں کابینہ وزیر اوم پرکاش راج بھر نے افسران کے ذریعہ گاڈ آف آنر نہ دیئے جانے کی وجہ سے ناراضگی کااظہار  کیا ہے۔

راج بھر نے الزام لگایا ہے کہ انہیں صرف پسماندہ طبقے کا ہونے کی وجہ سے گارڈ آف آنر  نہیں دیا گیا۔ راج بھر نے کہاکہ وہ نسلی اور ذات پات کے تعصب کا شکار ہوئے ہیں، اس لئے انہیں کہیں بھی شراکت نہیں مل پارہی ہے، یہ سب اسی کا کھیل ہے۔

نسلی تعصب کی وجہ سے مجھے نہیں ملتی ہےعزت: اوم پرکاش راج بھرکا پھر چھلکا درد

Loading...

اوم پرکاش نے کہا کہ اگر کوئی راجپوت یا برہمن ہوتا تو یہی افسران دم ہلاتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے ہوتے اور تمام انتظامات کرتے۔  بہرائج کے مہی پروا میں پارٹی کارکنا کی شادی تقریب میں شامل ہونے کے لئے راج بھر پہنچے تھے۔

 

 

بی جے پی حکومت کی ریزرویشن پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئےانہوں نے کہاکہ حکومت ریزرویشن ختم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بی ایچ یو میں 1200 ویکنسی نکالی گئیں، لیکن اس میں ریزرویشن نہیں دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ الگ الگ محکموں میں 5-4 سیکشن میں کسی میں دو کسی میں تین ویکنسی نکالی گئی ہیں۔ جب 1200 ویکنسی نکلی ہے تو میرا کہنا ہے کہ اس میں 22 فیصد  اور 27 فیصد ریزرویشن ہونا چاہئے جبکہ ایسا نہیں ہے۔

راج بھر نے کہاکہ بیک ڈور سے ریزرویشن ختم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے اور یہ سرکار کے اشارے پر کیاجارہا ہے۔ ہم سرکار میں شامل ہیں۔ مایاوتی جو کررہی ہیں، انہوں نے جو پڑھا ہے، اس کے حساب سے ٹھیک ہے اور جو ہم نے پڑھا ہے، اس کے حساب سے ہمارا بھی ٹھیک ہے۔

انہوں نے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کو بہتر وزیراعلیٰ بتاتے ہوئے کہاکہ ان کے ضلع اور منڈل دوروں کے دوران افسران ہنومان چالیا دیر رات سے پڑھنے لگتے تھے۔

 

 

Loading...