vishwa hindu parishad raises a question against supreme courts orders on settle through mediation un, وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)کے مرکزی وزیر راجیندر پنکج نے متنازعہ جگہ کے مسئلے پر سپریم کورٹ کی پہل سے ہورہی ثالثی بات چیت پر سوال اٹھایا ہے۔– News18 Urdu

رام للا جنم استھان پر موجود ہیں پھر ثالثی کیوں: وی ایچ پی

وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)کے مرکزی وزیر راجیندر پنکج نے متنازعہ جگہ کے مسئلے پر سپریم کورٹ کی پہل سے ہورہی ثالثی بات چیت پر سوال اٹھایا ہے۔

Mar 14, 2019 05:33 PM IST | Updated on: Mar 14, 2019 05:39 PM IST

وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)کے مرکزی وزیر راجیندر پنکج نے متنازعہ جگہ کے مسئلے پر سپریم کورٹ کی پہل سے ہورہی ثالثی بات چیت پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جہاں رام للا موجود ہیں وہیں ان کی جنم بھومی ہے۔ ایسے میں عدالت کس بات پر ثالثی کرارہی ہے۔

کاریے سیوک پورم وی ایچ پی ہیڈکوارٹر سے جمعرات کو جاری بیان میں پنکج نے کہا کہ سپریم کورٹ آگے آکر اس بات کا اعلان کرے کہ ہائی کورٹ نے زمین کا جو بٹوارہ کیا تھا وہ غلط ہے اورجہاں رام للا موجود ہیں وہیں ان کی جنم بھومی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی تو لین دین کےلئے ہوتی ہے۔ ہندو سماج سے آخر کیا امید ہے کیونکہ ہندو سماج پانچ سو برس سے اپنے بھگوان کی جنم بھومی پر عالی شان مندر دیکھنے کے لئے ترس رہا ہے۔

رام للا جنم استھان پر موجود ہیں پھر ثالثی کیوں: وی ایچ پی

بابری مسجد: فائل فوٹو

پنکج نے اپنے بیان میں کہا کہ سبھی فریقوں کے اتفاق کے بعد سپریم کورٹ کی سماعت شروع کی گئی اور ستمبر 2010 میں فیصلہ دیا گیا کہ جہاں رام للا موجود ہیں وہیں ان کی جنم بھومی ہے۔لیکن اس فیصلے کے ساتھ ہی سنی سینٹرل وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑا کی دلیل کو خارج کرنے کے بعد متنازعہ مقام کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ نرموہی اکھاڑا اور ایک حصہ سنی وقف بورڈ اور درمیانہ حصہ رام للا کو دینے کا فیصلہ دیاگیا۔

وی ایچ پی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ 70سال سے الجھے عدالتی نظام سے ہندو سماج کو نجات ملنی چاہئے۔ بھگوان شری رام آخر کب تک انصاف کے لئے ترستے رہیں گے۔ کروڑوں ہندوؤں کی یہی تمنا ہے کہ جہاں رام للا موجود ہیں وہیں عالی شان مندر کی تعمیر ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اجودھیا کی سرحد میں کسی بھی طرح نئی مسجد کی تعمیر نہیں ہونے دی جائےگی۔

Loading...

 

Loading...