اگر بی سی سی آئی نے اٹھایا یہ قدم تو اگلے دو ورلڈ کپ سے باہر ہو جائے گی ٹیم انڈیا– News18 Urdu

اگر بی سی سی آئی نے اٹھایا یہ قدم تو اگلے دو ورلڈ کپ سے باہر ہو جائے گی ٹیم انڈیا

چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد کو لے کر الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، لیکن وراٹ کوہلی کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی یا نہیں اس پر جاری تذبذب ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔

May 04, 2017 07:48 PM IST | Updated on: May 04, 2017 07:48 PM IST

نئی دہلی : چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد کو لے کر الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، لیکن وراٹ کوہلی کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی یا نہیں اس پر جاری تذبذب ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ جہاں ایک طرف بی سی سی آئی کے کئی افسران اس ٹورنامنٹ میں نہیں کھیلنے کا تقریبا ارادہ بنا چکے ہیں وہیں کرکٹ آپریٹر کمیٹی قطعی نہیں چاہتی ہے کہ ایسا فیصلہ کیا جائے، جس سے ہندوستانی کرکٹ کو نقصان ہو۔

ذرائع کی مانیں تو بی سی سی آئی نے آئی سی سی پر دباؤ بنانے کے لئے ٹورنامنٹ نشر کرنے والی اسٹاراسپورٹس کمپنی کا استعمال کرنے سے بھی نہیں ہچکچا رہی ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ اسٹاراسپورٹس نے باقاعدہ لیٹر لکھ کر یہ یقین دہانی مانگی ہے کہ اس میں ٹیم انڈیا کی موجودگی کو لے کر صورتحال صاف کی جائے۔ آپ کو بتا دیں کہ ہندوستان میں ہونے والے تمام میچوں کے نشریات کے حقوق بھی اسٹار کے پاس ہی ہیں اور بی سی سی آئی سے ان کا پیشہ وارانہ رشتہ کافی گہرا ہے، لیکن اسٹار کی مشکل یہ ہے کہ اگر کوہلی کی ٹیم انگلینڈ نہیں جاتی ہے تو انہیں بھی کافی مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

اگر بی سی سی آئی نے اٹھایا یہ قدم تو اگلے دو ورلڈ کپ سے باہر ہو جائے گی ٹیم انڈیا

(AP)

سی او اے نے ڈالا دباؤ، بی سی سی آئی افسران بیک فٹ پر

تاہم پورے معاملے کی نزاکت کو ذہن میں رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل کرکٹ آپریٹر کمیٹی کے سربراہ ونود رائے نے بی سی سی آئی کے تمام ایسوسی ایشنوں کو ایک ای میل لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ اگر بی سی سی آئی اپنی ضد پر اڑی رہی اور انہیں ایسا لگتا ہے کہ بائیکاٹ کا فیصلہ غلط ہے ، تو وہ سپریم کورٹ سے ہدایت لینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اس بات نے بی سی سی آئی کے کئی افسران کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔

ہر سال صرف 3 ون ڈے کھیلنے سے ہی ہندوستان کا خسارہ ہو جائے گا مکمل، پھر ہنگامہ کیوں؟

بگ تھری کی آمدنی فارمولہ اور آئی سی سی کی نئی تجویز سے ہندوستان کو 8 سال میں تقریبا 800 کروڑ کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یعنی ہر سال 100 کروڑکا خسارہ ۔ تاہم یہ خسارہ بی سی سی آئی صرف 3 اضافی ون ڈے یا ٹی 20 میچوں کا انعقاد کرکے پورا کرسکتی ہے ، تو ایسے میں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر بی سی سی آئی اس معاملہ کو اتنا طول کیوں دے رہی ہے؟۔

کوہلی یا دھونی سے نہیں لیا گیا کوئی مشورہ

حیران کن بات یہ بھی ہے کہ اتنے حساس مسئلہ پر بی سی سی آئی کے حکام نے نہ تو کپتان کوہلی اور نہ ہی سینئر کھلاڑی دھونی سے مشورہ یا تبادلہ خیال کرنا مناسب سمجھا ہے۔ اگرچہ چیمپئنز ٹرافی میں نہیں کھیلنے سے سب سے زیادہ نقصان تو کھلاڑیوں کو ہی ہوگا۔

ٹیم انڈیا نہیں کھیلی چیمپیئنز ٹرافی تو ورلڈ کپ بھی نہیں کھیل پائے گی

اتنا ہی نہیں اگر بی سی سی آئی چیمپئنز ٹرافی میں نہیں کھیلتاہے تو مستقبل میں وہ دو ورلڈ کپ میں بھی نہیں کھیل پائے گا۔ کیا کوہلی اور ان کے ساتھی کھلاڑی ایسے فیصلہ کی حمایت کریں گے؟ ظاہر سی بات ہے کبھی نہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خود کو اہم بنانے یا پھر اہم ظاہر کرنے کی کوشش میں بی سی سی آئی ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے ہندوستانی کرکٹ کی تصویر کو مزید خراب کرنے کی ہی ضد پر اڑی ہوئی ہے۔

Loading...