لوک سبھا الیکشن 2019: آخرامت شاہ پرہی اتنا بھروسہ کیوں کرتے ہیں مودی؟– News18 Urdu

لوک سبھا الیکشن 2019: آخرامت شاہ پرہی اتنا بھروسہ کیوں کرتے ہیں مودی؟

انل رائے نے اپنی کتاب شیڈو پولیٹیکس میں اس بات کا انکشاف کیا ہے۔ 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں امت شاہ پرمودی کا بھروسہ سامنے آیا۔

May 22, 2019 10:59 PM IST | Updated on: May 23, 2019 12:11 AM IST

لوک سبھا الیکشن 2019 کے نتائج 23 مئی کوآنے جارہے ہیں۔ ویسے 24-23 مئی کی درمیانی شب کوہوسکتا ہے کہ وہ سچ ہو، جوتمام ایگزٹ پول نےدکھایا یا ہوسکتا ہےکہ کچھ الٹ پھیرہو، لیکن ایک بات جس پرکہیں کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا ہے، وہ نریندرمودی اور امت شاٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍہ کی جوڑی۔ جے - ویرکہئے، رام- لکشمن کہئے یا کچھ اور۔ تاہم ان کا ساتھ بہت مضبوط ہےاوریہ جوڑی بہت مضبوط نظرآتی ہے۔ انل رائے نےاپنی کتاب 'شیڈو پولیٹکس' میں اس بات کا انکشاف کیا ہے۔ 2014 کےلوک سبھا الیکشن میں امت شاہ اورنریندرمودی کا بھروسہ سامنے آیا۔

بات جون 2013 کی ہے، جب امت شاہ وارانسی کےدورے پرتھے، تب بھی امت شاہ کا پارٹی میں اثرورسوخ وزیراعلیٰ نریندرمودی کے بعد سب سے زیادہ تھا، لیکن وارانسی کا یہ دورہ دراصل آرایس ایس کےکہنے پرہورہا تھا۔ امت شاہ کے کندھوں پرآرایس ایس نے ایک بڑی ذمہ داری ڈالی تھی۔ امت شاہ 2014 کےالیکشن میں بی جے پی وزیراعظم عہدہ کے امیدوار نریندرمودی کےلئےموزوں سیٹ کا انتخاب کرنےکےارادے سے اترپردیش کا دورہ کررہے تھے۔ اپنے نریندربھائی کےلئےامت شاہ جیت کی گارنٹی والی سیٹ تلاش کرنے میں مصروف تھے۔ امت شاہ کےذہن نے یہ بھانپ لیا کہ اگریوپی میں بی جے پی کا ڈنکا بجانا ہے، تو پروانچل پرقبضہ کرنا ہوگا۔ امت شاہ جانتےتھےکہ مودی کی خود اعتمادی کی بدولت وارانسی سیٹ پرقبضہ ہندوتوا کے ذریعہ ہی ہوسکتا ہے۔

لوک سبھا الیکشن 2019: آخرامت شاہ پرہی اتنا بھروسہ کیوں کرتے ہیں مودی؟

امت شاہ اوروزیراعظم نریندرمودی۔ فائل فوٹو

Loading...

وہیں مودی کے'وکاس پرش' کی شبیہ ریاست میں کمزورپڑی پارٹی میں نئی جان پھونکنےکا کام کرے گی۔ کانگریس کوگجرات میں مسلسل تین بارروک کرامت شاہ نےاپنی قابلیت ثابت کی تھی۔ آرایس ایس، پارٹی اورمودی کواپنی پرچھائیں امت شاہ پرپورا بھروسہ تھا۔ وارانسی سیٹ پرپارٹی کےعظیم لیڈر80 سال کےمرلی منوہرجوشی قابض تھے، جو آئندہ الیکشن بھی اسی سیٹ سے لڑنا چاہتےتھے، لیکن امت شاہ نےطےکیا کہ مودی وارانسی سے ہوکرہی وزیر اعظم عہدہ تک کا سفرطے کریں گے۔ اس لئےامت شاہ نےمرلی منوہرجوشی سے دوٹوک کہہ دیا کہ وہ کانپورسےالیکشن لڑیں اوروارانسی کی سیٹ نریندرمودی کےلئے خالی کردیں۔ پہلےتوجوشی شش وپنج میں مبتلا ہوئے، لیکن ہوا وہی جوامت شاہ نےکہا۔

آخرکیا ہے مودی اورامت شاہ کا رشتہ؟

دونوں کا رشتہ 30 سال قدیم ہے۔ نریندرمودی اورامت شاہ سے1982 میں آرایس ایس کی شاخ میں ملے، اس وقت امت شاہ صرف 17 سال کےتھےاورنریندرمودی آرایس ایس کے پرچارک کےطورپرکام کررہےتھے۔ آرایس ایس سربراہ بالا صاحب دیوڑا نے جب مودی سے پہلی باربی جے پی میں شامل ہونےکوکہا تھا، تب شاہ ہی وہ پہلےشخص تھے، جس سے مودی نےاپنےمن کی بات کوشیئرکیا تھا۔ امت شاہ نے بھی مودی کوسیاست کی طرف قدم بڑھانے کےلئے حوصلہ دیا۔ امت شاہ جانتےتھےکہ مودی کےذریعہ ہی وہ بھی اپنےسیاسی مقاصد کو پورا کرسکیں گے۔

امت شاہ پراتنا بھروسہ کیوں؟

سہراب الدین معاملے میں امت شاہ کوجیل جانا پڑا تب مودی کےلئے بے حد مشکل دن تھے۔ اس دوران وزیراعلیٰ مودی نے امت شاہ کوجیل سے باہرنکلوانے کی ہرممکن کوشش کی۔  ایسی خبریں بھی آرہی تھیں کہ کانگریس امت شاہ کوکیس میں گواہ بناکرمودی کا کھیل ختم کرنا چاہتی ہے۔ مودی ان باتوں سے بہت پریشان تھے۔ مودی کی پریشانی سمجھتے ہوئےامت شاہ نے جیل سے ہی پیغام بھجوائےکہ چاہےکانگریس کتنا بھی زورڈال لے، امت شاہ ٹوٹیں گے نہیں۔

سہراب الدین معاملے میں امت شاہ اورنریندرمودی کے رشتے کی اصل آزمائش بھی ہوئی۔ دونوں اپنے اپنے کھیل کے ماہرکھلاڑی ہیں، جہاں امت شاہ اورمودی کو اپنی وفاداری کا احساس کرانے میں کامیاب رہے، وہیں مودی نے بھی امت شاہ کی غیرموجودگی میں مستقبل میں امت شاہ کا رول طےکرلیا۔ سہراب الدین معاملے میں امت شاہ نےتقریباً تین ماہ جیل میں گزارے۔ اس دوران انہوں نےکئی کتابیں پڑھیں۔ مودی نےانہیں خاص طورپروویکا نند کو پڑھنےکےلئےکہا۔ اس کا مقصد امت شاہ کوگروکے تئیں خود کی قربانی کا سبق پڑھانا بھی ہوسکتا تھا۔ جیسا کہ وویکا نند نےاپنے گرورام کرشن پرہنس کے تئیں تھا۔

امت شاہ ہی کیوں بنے بی جے پی صدر؟

لوک سبھا الیکشن 2014 میں بی جے پی کی جیت کےبعد نریندرمودی کا وزیراعظم عہدہ کے حلف لینےطےتھا۔ وزیراعظم بنتے ہی مودی نے بھی اپنےدوست اورمعتمد امت شاہ کوبی جے پی کےصدرعہدہ پربٹھا دیا۔ امت شاہ کواتنا اہم عہدہ دینے کے بعد کئی سوال بھی اٹھے۔ وجہ تھی، امت شاہ پرسہراب الدین کے فرضی انکاونٹراوربنگلورمیں ایک لڑکی کی جاسوسی کرانے کا الزام  لگا، پرانےگڑے مردے اکھاڑے جانے لگے۔ شاہ کو انتخابی بساط کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔ مودی کے گجرات میں بطوروزیراعلیٰ 12 سال کی مدت کارمیں امت شاہ کے سب سے زیادہ اہم عہدے پررہے۔

امت شاہ کو آتا ہے مودی کا ماننا

جس وقت مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، امت شاہ ہی اکلوتے ایسے وزیرتھے، جومودی سے اپنی بات منوا سکتے تھے۔ آرایس ایس کے تئیں امت شاہ کا لگاو بھی جگ ظاہرہے۔ گجرات میں مذہب کی تبدیلی کولےکربنائےگئے قانون پرمودی کوراضی کرنے کے پیچھے امت شاہ کا ہی دماغ تھا۔ امت شاہ پرسنگھ کی مرضی کے مطابق اس قانون کومنظورکرانے کی ذمہ داری ڈالی گئی۔ مودی اس قانون کولےکرشش وپنج میں مبتلا تھےکیونکہ انہیں لگتا تھا کہ مذہب پرلائےگئے کسی بھی قانون کوقانون سازکونسل میں منظوری نہیں ملے گی۔ یہ امت شاہ کے دماغ کا ہی کھیل تھا کہ انہوں نے نہ صرف مودی کواس قانون کےلئے راضی کرلیا بلکہ قانون کوپاس بھی کروالیا۔ اس ایک قدم سے امت شاہ پرآرایس ایس کے بھروسے میں مزید اضافہ ہوگیا۔

Loading...