اسمبلی انتخابات:شمال ۔مشرق کے یہ انتخابات کیوں رہے اتنے خاص۔۔۔– News18 Urdu

اسمبلی انتخابات:شمال ۔مشرق کے یہ انتخابات کیوں رہے اتنے خاص۔۔۔

تری پورہ۔ہندستان میں انتخابات کے نتائج کو ایک تہوار کی طرح منایا جاتا ہے۔پر آزادی کے بعد سے اب تک پورے ہندستان سے دیگر شمال مشرق ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو توجہ نہیں ملی جو باقی ریاستوں کو ملتی تھی۔

Mar 03, 2018 06:59 PM IST | Updated on: Mar 03, 2018 06:59 PM IST

نئی دہلی۔ہندستان میں انتخابات کے نتائج کو ایک تہوار کی طرح منایا جاتا ہے۔پر آزادی کے بعد سے اب تک پورے ہندستان سے دیگر شمال مشرق ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو توجہ نہیں ملی جو باقی ریاستوں کو ملتی تھی۔شمال مشرق میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو میڈیا کی جانب سے بھی اتنی اہمیت دی جاتی تھی جتنی بلدیاتی انتخابت کو دی جاتی ہے۔

لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں رہا۔ہفتہ کی صبح سے ہی لوگ ٹیلی وژن کے سامنے تھے تاکہ وہ شمال۔مشرق کی تین ریاستوں میگھالیہ،تری پورہ،ناگالینڈ کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کی پل ۔پل کی اپڈیٹ جان سکیں۔اور میڈیا بھی اتنی ہی شدت کے ساتھ اسے کوریج دے رہی تھی۔یہاں تک کہ ٹویٹر پر بھی شمال مشرق ٹرینڈ کر رہا تھا۔

اسمبلی انتخابات:شمال ۔مشرق کے یہ انتخابات کیوں رہے اتنے خاص۔۔۔

آزادی کے بعد سے ہی جواہر لال نہرو نے شمال مشرق کی ریاستوں کو ملک کے باقی حصے سے الگ ۔تھلگ ہی رہنے دیا۔

Loading...

آزادی کے بعد سے ہی جواہر لال نہرو نے شمال مشرق کی ریاستوں کو ملک کے باقی حصے سے الگ ۔تھلگ ہی رہنے دیا۔واضح ہو یکہ لیڈران نے بھی یہی اس پالیسی کو اپنایااور یہ سلسلہ قریب 60سال تک چلتا رہا۔

اس پالیسی میں تبدیلی 2014 سے دیکھنے ملی جب 'لک ایسٹ پالیسی'"ایکٹ پالیسی"بن گئی اور مرکزی وزرا ء کو شمال مشرق کی آٹھ ریاستوں میں بھیجا جانے لگا۔اس بات نے شمال مشرق ریاستوں میں اپوزیشن کو چونکا دیا۔تریپورہ میں لیفٹ فرنٹ نے بھی اس بات کو قبول کر لیا کہ مرکزی لیڈران کی مسلسل آمد نے انتخابی منظر کو بدلنے میں بڑا اہم کردار نبھایا۔

سی پی ایم لیڈرگوتم داس نے کہا کہ بی جے پی مرکز کی مشنری کا استعمال کر کے انتخابات لڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نہ صرف مرکزی وزرا کا استعمال کرر ہی ہے ہے بلکہ مرکزی پی ایس یو کا بھی استعمال کر رہی ہے۔ہر مہینے اگرتلہ میں کوئی نہ کوئی مرکزی وزیر آتے ہیں اور پارٹی کیلئے کام کرتے ہیں۔اس مرکزی مشنری کے استعمال نے ووٹرزکے درمیان ان کی شبیہ کو مضبوط کیا ہے۔

جب دہلی کی مرکزی حکومت اس میں اتنی دلچسپی لینے لگی تو میڈیا کا دھیان بھی متوجہ ہوا۔اس کے بعد سیاسی بحث مختلف  پارٹیوں کے ٹکراؤ اور جدوجہدسے ہٹ کر نوکری،رابطہ کاری اور مواصلات کی جانب شفٹ ہو گئی۔

پر کافی لوگ اس کا سبب شمال مشرق ریاستوں میں گزشتہ کچھ سالوں میں قائم ہونے والے امن کو بتاتے ہیں۔ان کا کہنا ہیکہ گزشتہ 15 سالوں میں آسام میں ترون گگوئی کی حکومت نے انتہا پسندی کو کا خاتمہ کرنے میں اہم کردار نبھایا ۔تریپورہ  کی مانک حکومت نے اے ایف ایس پی اے کو ریاست سے ختم کیا جبکہ منی پور کی ای بوبی سنگھ کی حکومت نے قوم پرستی سے ریاست کو روکنے میں اہم کردار نبھایا۔

امن کے قیام کے بعد نئی نسل اقتصادی ترقی کے پھل کا ذائقہ لینا چاہتی تھی۔جس کا فائدہ بی جے پی کو ملا اور ترقی و نوکری کی بات کرکے انہوں نے اس کس فائدہ لیا۔

Loading...