women should do anchoring reporting to bind scarf and burqa deoband nodbk ' خواتین کو اسکارف باندھ کر کرنی چاہئے اینکرنیگ اور رپورٹنگ '– News18 Urdu

' خواتین کو اسکارف باندھ کر کرنی چاہئے اینکرنگ اور رپورٹنگ '

مفتی احمد گوڑ نے کہا ہے کہ کوئی بھی روزگار جو جائز اور حلال ہے ان سب کو شریعت نے اجازت دی ہے۔

Dec 22, 2018 10:18 AM IST | Updated on: Dec 22, 2018 10:48 AM IST

دارالعلوم کے فتوے کے بعد اب دیوبند کے ایک مفتی نے مسلم خواتین کیلئے چونکانے والا بیان دیا ہے۔ مفتی احمد گوڑ نے کہا کہ ٹی وی پر جو بھی مسلم خواتین اینکرنگ یا رپورٹنگ کر رہی ہیں ان تمام کو اسکارف باندھ کر کام کرنا چاہئے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا بھی دھیان رکھنا چاہئے کہ بال کھلے نہ ہوں۔ ان کی مانیں تو خواتین رپورٹورس کو برقع کا استعمال کرنا چاہئے۔

مفتی نے کہا ہے کہ کوئی بھی روزگار جو جائز اور حلال ہے ان سب کو شریعت نے اجازت دی ہے۔ مفتی کے مطابق ٹی وی اینکرنگ کرنے کیلئےشریعت نے جو بہتر طریقہ بتایا ہے وہ پردہ ہے لیکن شریعت کی باتوں کو ماننا آپ کی مرضی پر ہے۔

' خواتین کو اسکارف باندھ کر کرنی چاہئے اینکرنگ اور رپورٹنگ '

مفتی نے کہا ہے کہ کوئی بھی روزگار جو جائز اور حلال ہے ان سب کو شریعت نے اجازت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پردے کا جو صحیح طریقہ ہے وہ برقع ہے۔ برقع پردے کا سب سے اول درجہ ہے کیونکہ برقع میں منھ سے لیکر بدن تک ڈھکا ہوتا ہے۔

بتادیں کہ حال ہی میں سہارنپور میں واقع دارالعلوم دیوبند نے ایک نیا فتوی جاری کرتے ہوئے کسی بھی شادی تقریب میں اجتماعی طور پرمرد و عورتوں کا ایک ساتھ کھانا کرنے کو حرام قرار دیا تھا۔ اتنا ہی نہیں مفتیوں نے شادیوں میں کھڑے ہوکر کھانے کو بھی ناجائز قرار دیا تھا۔

Loading...