نیتن یاہو نے مودی کے سامنے اٹھایا اسرائیلی سفارتکار کی کار پر حملہ کا معاملہ ، شروع ہوسکتی ہے کارروائی ؟ 

Jul 06, 2017 09:57 PM IST | Updated on: Jul 06, 2017 09:57 PM IST

یروشلم : اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے دوران 2012 میں نئی ​​دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کی ایک گاڑی پر ہوئے حملے کا معاملہ اٹھایا۔ ’ہارٹز‘ کی رپورٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے ایک افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مسٹر نیتن یاہو نے مسٹر مودی سے حملے کی جانچ میں پیش رفت کے حوالے سے بات چیت کی۔ میڈیا کی خبروں کی مانیں تو اس معاملہ میں دوبارہ کارروائی شروع ہوسکتی ہے۔

فروری 2012 میں نئی ​​دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کی ایک گاڑی پر مشتبہ ایرانی حملہ آوروں نے نشانہ بنایا تھا جس میں سفارت خانے میں مامور ایک افسر کی اہلیہ زخمی ہو گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ہندستان نے اس معاملے میں ایرانی عناصر کے ملوث ہونے کی تردید کردی تھی اور اب تک کسی بھی مشکوک کے خلاف معاملہ درج نہیں کیا گیا ہے۔

نیتن یاہو نے مودی کے سامنے اٹھایا اسرائیلی سفارتکار کی کار پر حملہ کا معاملہ ، شروع ہوسکتی ہے کارروائی ؟ 

(Photo: Reuters/Jack Guez)

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حملے کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہندوستانی جانچ ایجنسیوں نے ایک ہندستانی شہری کو حملہ آوروں کی مدد کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا تھا لیکن کچھ عرصہ بعد سیکورٹی ایجنسیوں نے جانچ کے کام سے خود کو الگ کر لیا تھا اور گرفتار ملزم کو رہا کر دیا گیا تھا ۔ اس کے بعد اس معاملے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع نے دعوی کیا ہے کہ ہندستان نے ایران کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کی وجہ سے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں۔

قبل ازیں 3 جولائی کو ہندستانی وزیر اعظم کے اسرائیلی دورے کے موقع ہندستان میں اسرائیلی سفیر ڈینیل كارمون نے کہا تھا، ’’ہندستانی سرکار حملے کی جانچ پوری نہیں کر رہی ہے۔ اسرائیل اس معاملہ کو لگاتار اٹھاتا رہے گا‘‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز