جھارکھنڈ میں چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے دو سوطالبات نے ایک ساتھ چھوڑا اسکول– News18 Urdu

جھارکھنڈ میں چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے دو سوطالبات نے ایک ساتھ چھوڑا اسکول

رانچی۔ جھارکھنڈ کے جمشید پور میں ٹوائلٹ کی کمی کی وجہ سے 200 طالبات نے ایک ساتھ اسکول چھوڑ دیا۔

Aug 24, 2015 12:12 PM IST | Updated on: Aug 24, 2015 12:12 PM IST

رانچی۔ جھارکھنڈ کے جمشید پور میں ٹوائلٹ کی کمی کی وجہ سے 200 طالبات نے ایک ساتھ اسکول چھوڑ دیا۔ طلبہ کی طرف سے ملی شکایت کی بنیاد پر مقامی لوگوں اور والدین نے پیر کو ایک اجلاس کا انعقاد کیا اور دیہی علاقے میں لڑکیوں کے لئے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی غرض سے لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا فیصلہ لیا۔

حکومت کی طرف سے چلنے والے اس رہائشی اسکول میں پڑھنے والی تقریبا 200 طالبات نے اسکول چھوڑ دیا۔ ملک کے پریمیئر اسٹیل ٹاؤن جمشید پور سے تقریبا 50 کلومیٹر دور سرائے کیلا ضلع میں لڑکیوں نے یہ قدم اس لیے اٹھایا، کیونکہ اسکول میں ٹوائلٹ نہیں تھے۔

جھارکھنڈ میں چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے دو سوطالبات نے ایک ساتھ چھوڑا اسکول

Loading...

بتا دیں کہ کستوربا گاندھی رہائشی اسکول میں 220 اسٹوڈنٹس ہیں جبکہ ٹوائلٹ صرف پانچ ہیں۔ اس کی وجہ سے طالبات کھیتوں میں جانے کے لیے مجبور ہیں، جہاں مقامی لڑکے ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔

ضلع انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، تاہم، کمیٹی طالبات کے اسکول چھوڑنے کے معاملے کو ٹوائلٹ کی کمی سے نہیں جوڑنا چاہتی۔

جمعرات کو کیمپس میں دورہ کرنے آئے ضلع تعلیم افسر ہری شنکر نے کہا، ہم وجوہات کے بارے میں تبھی بتا پائیں گے، جب تحقیقات کی رپورٹ جمع کر دی جائے گی۔

اسکول انتظامیہ نے شکایت کی کہ اسکول میں باؤنڈری دیوار نہیں ہے، اس لئے مقامی لڑکے لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں رات میں کئی بار لڑکیوں کے ہاسٹل میں پتھر بھی پھینکتے ہیں۔ اس اسکول میں 12 ویں تک طلبہ پڑھتے ہیں۔

حال ہی میں اسکول کی وارڈن انیتا بیری نے ايچاگڑھ پولیس تھانے میں ایک شکایت درج کروائی اور چھیڑچھاڑ کے معاملوں کی جانچ پڑتال کرنے کی گزارش کی۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر اس علاقے میں گشت بڑھا دی ہے۔

Loading...