جمشید پور: کچھ جگہوں پر کرفیو میں نرمی، امتحانات منسوخ– News18 Urdu

جمشید پور: کچھ جگہوں پر کرفیو میں نرمی، امتحانات منسوخ

جھارکھنڈ کے جمشید پور میں گزشتہ دو دن سے تشدد کے پیش نظر کرفیو لگا دیا گیا تھا ، اب اس میں کچھ مقامات پر نرمی دی گئی ہے ۔

Jul 22, 2015 07:44 PM IST | Updated on: Jul 22, 2015 07:47 PM IST

جمشید پور : جھارکھنڈ کے جمشید پور میں گزشتہ دو دن سے تشدد کے پیش نظر کرفیو لگا دیا گیا تھا ، اب اس میں کچھ مقامات پر نرمی دی گئی ہے ۔  بدھ کو سکیورٹی فورسز نے جمشید پور کے کئی حصوں میں فلیگ مارچ کیا ۔

فلیگ مارچ کے بعد چار تھانہ علاقوں کو چھوڑ کر دیگر علاقوں میں کرفیو میں دوپہر ایک بجے سے پانچ بجے تک کی  ڈھیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ،  جن چار جگہوں پر کرفیو میں کوئی ڈھیل نہیں دی گئی ان میں مانگو، اليڈيه، آزاد نگر اور ایم جي ایم تھانہ علاقہ شامل ہیں ۔

جمشید پور: کچھ جگہوں پر کرفیو میں نرمی، امتحانات منسوخ

وہیں جمشید پور میں میٹرک اور انٹر کے كمپارٹمنٹ کا امتحان بھی ملتوی کر دیا گیا ہے ۔  محکمہ تعلیم نے اطلاع  دی ہے کہ تا حکم ثانی جمشید پور میں تمام امتحانات ملتوی رہیں گے ۔

جمشید پور میں منگل کی رات سے کرفیو لگا ہوا ہے ۔  اسکول کالجوں کو بھی بدھ کو بند رکھنے کا حکم دیا گیا ۔  وہیں پولیس نے تشدد پھیلانے کے الزام میں 103 افراد کو گرفتار کر لیا ہے ۔

Loading...

غور طلب ہے کہ ایک لڑکی کے ساتھ مبینہ چھیڑخانی کے بعد  ہوئے  فرقہ وارانہ تشدد کی مخالفت میں منگل کو وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی جانب سے بلائے گئے بند کے دوران بھی تشدد ہوا ،  تنظیم کے کارکنوں نے نہ صرف سڑک پر جام لگا دیا، بلکہ کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور اس کا نذر آتش کرڈالا  ، جس کے بعد پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا ۔  ہجوم کو کنٹرول کرنے میں چھ پولیس افسروں سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ۔  شہر کے کئی مقامات پر دونوں فرقوں  کے درمیان تشدد کے واقعات پیش آئے ۔

پورے شہر میں سیکورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں ، حالات سے نمٹنے کے لئے پولیس ہیڈکوارٹر نے  جمشید پور میں سیکورٹی اہلکاروں کی  15 اضافی  کمپنیوں کو تعینات کیا ہے ۔ اس کے علاوہ، رانچی سےآئی ٹی بی پی کی دو کمپنیاں، چار کمپنی سی آر پی ایف اور آر اے ایف  کی دو کمپنیاں بھی بھیجی گئی ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ پیر کی رات تقریبا ساڑھے نو بجے ایک لڑکی کے ساتھ کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر چھیڑخانی کر دی ۔  اس کے بعد دونوں فرقوں کے لوگ آمنے سامنے آ گئے اور  دیر رات ایک فرقہ کے لوگوں نے لڑکے کی پٹائی کر دی گئی ، جس کے بعد تشدد بھڑک اٹھا ۔

Loading...