وياپم گھوٹالہ: 700 امیدواروں کے بدلے گئے تھے رول نمبر

مدھیہ پردیش کے پری میڈیکل ٹیسٹ (پي ایم ٹي) امتحان پاس کرانے کا ٹھیکہ لینے والا گروہ امیدواروں کے رول نمبر بدلوا دیتا تھا

Jul 23, 2015 08:19 PM IST | Updated on: Jul 23, 2015 08:19 PM IST
وياپم گھوٹالہ: 700 امیدواروں کے بدلے گئے تھے رول نمبر

بھوپال :  مدھیہ پردیش کے پری میڈیکل ٹیسٹ (پي ایم ٹي) امتحان پاس کرانے کا ٹھیکہ لینے والا گروہ امیدواروں کے رول نمبر بدلوا دیتا تھا ۔  اس بات کا انکشاف سال 2012 میں ہوئے پی ایم ٹی امتحان کو لے کر سامنے آئے دستاویزات میں ہوا ہے ۔  اس سال کے امتحان میں سات سو امیدواروں کے رول نمبر بدلے گئے تھے ۔  دعوی کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے 300 سے زیادہ امیدواروں کا انتخاب  بھی ہو گیا، جن میں سے 150 طلباء نے سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلہ لیا ہے ۔  ریاست کے سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں کی 1250 سیٹوں پر داخلے کے لئے وياپم کے ذریعہ ہر سال پی ایم ٹی امتحان منعقد ہوتا ہے ۔ ان میں سرکاری میڈیکل کالجوں کی آٹھ سو اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی ساڑھے چار سو نشستیں (آدھی نشستیں) شامل ہیں ۔ وہیں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی باقی نشستوں کو ڈيمیٹ کے ذریعے بھرا جاتا ہے ۔

وياپم گھوٹالے کے خلاف ہائی کورٹ اندور میں ابھے چوپڑا نے ستمبر 2013 میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی ۔  اس کے بعد یہ معاملہ ہائی کورٹ جبل پور میں منتقل ہو گیا تھا ۔ چوپڑا نے جمعرات کو بتایا کہ ایس ٹی ایف کی طرف سے ہائی کورٹ میں داخل کئے گئے دستاویزات سے چونکانے والی معلومات سامنے آئی ہے ۔

vyapam_Examm

Loading...

چوپڑا نے بتایا کہ ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2012 میں ہوئے پی ایم ٹی امتحان میں تقریبا 40 ہزار طالب علم شامل ہوئے، جن میں سے سات سو امیدواروں کے رول نمبر بدلے گئے تھے ۔ 28 جنوری 2014 کو داخل کئے گئے دستاویزات کے مطابق ایس ٹی ایف  کی جانچ میں وياپم کے حکام کی جانب سے سات سو امیدواروں کا رول نمبر غلط طریقے سے تبدیل  کئے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایس ٹی ایف نے طبی تعلیم محکمہ کو بھی خط لکھ کر بتایا تھا کہ ان میں 150 طالب علموں نے سرکاری کالجوں میں داخلہ بھی لے لیا ہے، جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔  سماجی کارکن انمول خزانے نے کہا کہ ایس ٹی اایف  نے بھی تسلیم کیا ہے کہ سال 2012 میں رول نمبر بدلواكر ریاست کے سات سرکاری میڈیکل کالجوں میں 150 امیدواروں نے داخلہ لیا تھا، مگر باقی میں سے کتنے امیدواروں نے پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لیا تھا، اس بات کا اب بھی تک پتہ  نہیں چل سکا ہے ۔

ان کا دعوی ہے کہ باقی طلبہ میں سے ڈیڑھ سو نے پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لیا ہوگا، اس طرح سات سو میں سے تین سو سے زیادہ امیدواروں نے داخلہ لیا ہو گا ۔  غور طلب ہے کہ جولائی 2013 میں ہوئے پی ایم ٹی امتحان  میں اندور کی کرائم برانچ نے ایک ایسے گروہ کو پکڑا گیا تھا، جو پی ایم ٹی میں فرضی امتحان کروا کر امتحان پاس کرواتا تھا ۔

بعد میں تحقیقات آگے بڑھی تو پتہ چلا کہ اس سانحہ کا ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر جگدیش ساگر وياپم کے افسروں کے ساتھ مل کر رول نمبر اس طرح سے سیٹ کرتا تھا کہ اس کی مرضی کے مطابق ایسے طالب علم ایک ہی جگہ اور ایک ہی کمرے میں بیٹھیں ۔ ڈاکٹر ساگر ان امیدواروں کے درمیان فرضی طالب علم یعنی سالور بھی بیٹھاتا تھا ، اس بات کی تصدیق ایس ٹی ایف کی  طرف سے ہائی کورٹ میں پیش کئے گئے دستاویزات سے بھی ہوتی ہے ۔

سپریم کورٹ نے 9 جولائی کو وياپم کی جانچ سی بی آئی کو سونپی تھی ۔  سی بی آئی نے گزشتہ پیر کو بھوپال پہنچ کر تحقیقات شروع کی ،  سی بی آئی اب تک کل 13 ایف آئی آر درج کر چکی ہے اور اس سلسلے میں ہوئی 17 اموات کو جانچ کے دائرے میں لیا ہے، جس میں ٹی وی صحافی اکشے سنگھ کی موت بھی شامل ہے ۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کی کمان نو جولائی 2015 کو سی بی آئی کو سونپے جانے سے پہلے ایس ٹی ایف نے گھوٹالے میں کل 55 معاملے درج کیے تھے ۔  2100 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، وہیں 491 ملزم اب بھی فرار ہیں ۔  اس جانچ کے دوران 48 افراد کی موت ہوچکی ہے ۔ ایس ٹی ایف اس معاملے کے 1200 ملزمان کے چالان بھی پیش کر چکی ہے ۔

اس معاملے کا جولائی 2013 میں انکشاف ہونے کے بعد تحقیقات کا ذمہ اگست 2013 ایس ٹی ایف کو سونپا گیا تھا ۔  پھر اس معاملے کو ہائی کورٹ نے نوٹس میں لیتے ہوئے سابق جج چندریش بھوشن کی صدارت میں اپریل 2014 میں ایس آئی ٹی بنائی گئی، جس کی نگرانی میں ایس ٹی ایف تحقیقات کر رہی تھی ۔  اب معاملہ سی بی آئی کے پاس ہے ۔

Loading...