وياپم ماملہ میں دو منا بھائيوں کو ملی 5 ، 5 سال کی سزا– News18 Urdu

وياپم ماملہ میں دو منا بھائيوں کو ملی 5 ، 5 سال کی سزا

عدالت نے وياپم میں فرضی واڑہ کے معاملے میں دو ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزا سنائی ہے ۔

Jul 25, 2015 07:36 PM IST | Updated on: Jul 25, 2015 07:36 PM IST

برہانپور :  کھنڈوا کی ایک عدالت نے وياپم  میں فرضی واڑہ کے معاملے میں دو ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 5 ، 5 سال قید کی سزا سنائی ہے ۔ وياپم سے وابستہ کسی بھی  کیس میں سزا کا یہ پہلا معاملہ ہے ۔

سیشن کورٹ نے 11 سال پرانے اس کیس میں ہفتہ کو اپنا فیصلہ سنایا ۔  کورٹ نے اولیندر کمار اور دیویندر کوشک کو قصوروار قرار دیتے ہوئے پانچ پانچ سال کی قید اور 500-500 روپے جرمانے کی سزا سنائی ۔

وياپم ماملہ میں  دو منا بھائيوں کو ملی 5 ، 5 سال کی سزا

کھنڈوا پولیس نے 2004 میں اولیندر کمار کو دیویندر کوشک کی جگہ امتحان دیتے ہوئے گرفتار کیا تھا ۔ اولیندر کا رول سالوور کا تھا ، جبکہ دیویندر امتحان میں شامل ہی نہیں ہوا تھا ۔  اولیندر سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر بعد میں دیویندر کو گرفتار کیا گیا تھا ۔

اولیندر بہار کا رہنے والا تھا اور بڑی رقم کے بدلے میں امتحان دینے کے لئے راضی ہوا تھا ،  وہیں دیویندر مدھيہ پردیش کے بھنڈ ضلع کا رہنے والا ہے ۔

Loading...

مدھیہ پردیش میں پی ایم ٹی امتحان میں فرضی واڑہ کا سلسلہ برسوں پرانا ہے ۔ 2013 میں اندور کرائم برانچ کے انکشاف کے بعد اس کی پرت درپرت کھلتی گئی تھی ، جانچ میں انکشاف ہوا کہ صرف میڈیکل امتحانات میں ہی نہیں بلکہ وياپم کے ذریعے ہونے والی ہر داخلہ امتحانات میں گھوٹالہ ہوا ہے ۔

اندور کرائم برانچ کے بعد تحقیقات کا ذمہ ایس ٹی ایف کو سوپا گیا تھا، جو ایس آئی ٹی کی نگرانی میں تحقیقات کر رہی تھی ،  وياپم سے جڑے مشتبہ افراد کی مسلسل ہو رہی اموات کے بعد شیو راج حکومت نے سی بی آئی جانچ کی سفارش کی تھی ، سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی سفارش اور اس سے وابستہ درخواستوں پر سماعت کے دوران سی بی آئی جانچ کا حکم دیا تھا ۔

سی بی آئی نے ابھی تک 2009 سے شروع ہوئے فرضی واڑہ کو اپنی تحقیقات میں شامل کیا ہے ۔  آہستہ آہستہ تحقیقات کا دائرہ بھی وسیع ہو سکتا ہے  ۔

Loading...