تو نہیں ملے گا مکہ کرین حادثہ کے متاثرین کو کوئی معاوضہ، عدالت نے سنایا یہ فیصلہ

جدہ۔ 2015 میں حج مقدس کے موقع پر مکہ میں ہوئے کرین حادثہ کے متاثرین کو کسی بھی طرح کا معاوضہ (دیت) نہیں ملے گا۔

Oct 24, 2017 07:40 PM IST | Updated on: Oct 24, 2017 07:40 PM IST

جدہ۔ 2015 میں حج مقدس کے موقع پر مکہ میں ہوئے کرین حادثہ کے متاثرین کو کسی بھی طرح کا معاوضہ (دیت) نہیں ملے گا۔ مکہ کی ایک عدالت نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ نہ تو زخمی افراد کو کوئی معاوضہ ملے گا اور نہ ہی مسجد کو ہونے والے نقصانات کی تلافی کی جائے گی کیونکہ قدرتی وجوہات کی بنا پر یہ حادثہ پیش آیا اور اس کے پیچھے کوئی انسانی عنصر نہیں تھا۔

سعودی گزٹ ڈاٹ کام کے مطابق، عدالت نے اسی کے ساتھ بن لادن گروپ کے تمام 13 ملازمین کو بری کر دیا ہے جن پر اس بھاری کرین کو آپریٹ کرنے کا الزام تھا۔ لیکن اٹارنی جنرل جنہوں نے عدالت کے اس فیصلے پر اعتراض جتایا ہے نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ خیال رہے کہ عدالتی کارروائی کے تحت جس فیصلہ کے خلاف  30 دن کے اندر اپیل دائر نہیں کی جاتی ہے، وہ فیصلہ حتمی ہو جاتا ہے اور اس پر عمل آوری ضروری ہو جاتی ہے۔

تو نہیں ملے گا مکہ کرین حادثہ کے متاثرین کو کوئی معاوضہ، عدالت نے سنایا یہ فیصلہ

ستمبر 2015 میں مسجد حرم کے مشرقی دیوار پر ایک کرین گر جانے سے 108 افراد کی موت ہو گئی تھی اور 238 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

ستمبر 2015 میں مسجد حرم کے مشرقی دیوار پر ایک کرین گر جانے سے 108 افراد کی موت ہو گئی تھی اور 238 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان جنہوں نے اس وقت جائے حادثہ کا دورہ کیا تھا تمام متاثرین کو معاوضہ دینے کی ہدایت دی تھی۔ شاہ سلمان نے کہا تھا کہ اس حادثے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو 10لاکھ سعودی ریال، حادثے میں مستقل طور پر معذور ہونے والے شخص کوبھی 10لاکھ سعودی ریال جبکہ جزوی طور پر زخمی ہونے والے افراد کو 5لاکھ سعودی ریال بطور معاوضہ ادا کیا جائے گا۔تاہم، اب سمجھا جاتا ہے کہ عدالت کا معاملہ شاہی فرمان سے الگ ہوتا ہے۔

معاملہ میں جسٹس نے کہا کہ عدالت نے موسمیاتی اور ماحولیاتی پریسیڈنیسی کی رپورٹوں کا بغور مطالعہ کرنے کے علاوہ تکنیکی، انجینئرنگ اور مکینیکل رپورٹوں کا مکمل طور پر جائزہ لینے کے بعد فیصلہ لیا ہے اور کہا کہ بھاری بارش اور طوفان کی وجہ سے کرین گری تھی۔ عدالت نے کہا کہ کرین بالکل سیدھی، صحیح اور محفوظ حالت میں تھی۔ ملزم کی طرف سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی کیونکہ اس نے تحفظ سے متعلق تمام ضروری تدابیر اختیار کی تھیں۔ واضح رہے کہ اس حادثے میں شہید ہونے والے ہندوستانی عازمین کی تعداد 12 تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز