امن کا نوبل انعام ’آئی کین‘ کے نام

Oct 06, 2017 09:20 PM IST | Updated on: Oct 06, 2017 09:20 PM IST

اوسلو۔ اس برس امن کا نوبل انعام نیوکلیائی ہتھیاروں کے خاتمے کی خاطر مہم چلانے والی ایک بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمپین ٹو ابالش نیوکلےئر ویپنس (ICAN) کو دینے کا اعلان کیاگیا ہے۔ آئی کین ایک سو سے زائد ملکوں میں غیر سرکاری تنظیموں کا ایک اتحاد ہے ۔ اس کا آغاز آسٹریلیا میں ہوا تھا اور ویانا میں 2007میں اس کا باضابطہ افتتاح ہوا تھا۔ نوبل کمیٹی کے سربراہ بیرٹ رےئس اینڈرسن نے ICAN کو امن کا نوبل انعام دیے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’اس وقت دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ طویل عرصے بعد ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ کچھ ممالک اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنا رہے ہیں اور یہ حقیقی خطرہ ہے کہ مزید ممالک جوہری ہتھیاروں کی تیاری شروع کر دیں گے، جس کی ایک مثال شمالی کوریا بھی ہے۔‘‘

ناورے کی نوبل کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے عالمی مہم‘ (ICAN) کے تحت جو کام کیا گیا، اس سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے ہونے والے تباہ کن اثرات کی طرف توجہ دلائی گئی۔ آئی سی اے این کی جانب سے امن کا نوبل انعام دیے جانے کے فیصلے کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عالمی معاہدے میں ہمارے کردار پر ہمیں اس برس امن کا نوبل انعام دیا جانے ہمارے لیے عزت کا باعث ہے۔‘‘ ICAN یعنی دنیا بھر سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی مہم دراصل دنیا کے سو ممالک سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد کا نام ہے۔

امن کا نوبل انعام ’آئی کین‘ کے نام

تنظیم کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا، ’’ایسی دنیا اور ایسے وقت، جب دنیا کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے کا سامنا ہے، ایک سو بائیس ممالک کی حمایت و تائید کی بدولت اس برس سات جولائی کے روز طے پانے والا معاہدہ ایک اچھا متبادل اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے: اے پی فوٹو۔

تنظیم کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا، ’’ایسی دنیا اور ایسے وقت، جب دنیا کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے کا سامنا ہے، ایک سو بائیس ممالک کی حمایت و تائید کی بدولت اس برس سات جولائی کے روز طے پانے والا معاہدہ ایک اچھا متبادل اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘ قبل ازیں ایسے اندازے لگائے جا رہے تھے کہ اس سال یہ انعام شامی رضا کار تنظیم ’وائٹ ہیلمٹ‘ کو دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے امکانات بھی تھے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری ڈیل ممکن بنانے کی وجہ سے یہ انعام ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کو بھی دیا جا سکتا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز