ہندوستانی فوج کا پاکستان کو دو ٹوک جواب ، ہم جوابی کارروائی کا اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں

Jul 17, 2017 11:33 PM IST | Updated on: Jul 17, 2017 11:33 PM IST

نئی دہلی: پاکستان کے ڈی جی ایم او کی پہل پر 17 جولائی ، 2017 کو ڈی جی ایم او کی سطح پر گفت و شنید کی گئی۔ گفت و شنید کے دوران ، پاکستان کے ڈی جی ایم او نے کپواڑہ ضلع کے ہندوستانی کیرین سیکٹر کے بالمقابل پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے اتھ مقام پر پاک فوجی ٹکڑیوں کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں چار پاکستانی فوجیوں اور ایک شہری کی ہلاکت کا معاملہ اٹھایا۔ اس کے جواب میں ہندوستانی ڈی جی ایم او نے واضح کیا کہ اب تک جنگ بندی کی تمام تر خلاف ورزیاں پاکستانی فوج کی جانب سے کی گئی ہیں اور ہندوستانی فوج نے محض اس کا مناسب جواب دیا ہے۔

علاوہ ازیں ، جہاں تک ہندوستانی فوج کی فائرنگ کا سوال ہے ، تو وہ لائن آف کنٹرول ( ایل سی ) سے ملحق پاکستانی چوکیوں کے قریب سے داخل ہونے والے مسلح در اندازوں پر ہی کی گئی ہے۔ ڈی جی ایم او نے پوری وضاحت کے ساتھ یہ بات بھی پیش کی ہے کہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ در اندازی کا یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں پاکستان کی ہراول چوکیوں کا تعاون بھی شامل رہتا ہے جس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول پر امن و امان میں خلل پڑتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ داخلی سلامتی بھی متاثر ہوتی ہے۔

ہندوستانی فوج کا پاکستان کو دو ٹوک جواب ، ہم جوابی کارروائی کا اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں

سرحد پار سے کی جانے والی ان کارروائیوں میں در اندازوں کے ذریعہ ہمارے فوجیوں کو نشانہ بنانے میں پاکستانی فوجی ٹکڑیوں کا باقاعدہ تعاون حاصل رہتا ہے اور اس کا اظہار لگا تار ہمارے فوجیوں کو نشانہ بنانے سے ہوتا رہتا ہے۔ ڈی جی ایم او نے واضح الفاظ میں جتا دیا ہے کہ ہندوستانی بری فوج جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا معقول جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے تاہم لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ امن و امان کی بر قراری کی کوششوں کے لئے مخلص بھی ہے ، شرط یہ ہے کہ سر حد پار سے بھی ایسا ہی جواب ملے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز