ملک کے 11 وزرائے اعلی کے خلاف مجرمانہ کیس ، مہاراشٹر کے وزیر اعلی فرنویس فہرست میں ٹاپ پر

ملک کے 11 وزرائے اعلی کے خلاف مجرمانہ مقدمات چل رہے ہیں ۔ اس بات کا انکشاف ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس ( اے ڈی آر) نے کیا ہے ۔ اے ڈی آر نے ملک کے 31 وزرائے اعلی کی ایک رپورٹ جاری کی ہے

Feb 13, 2018 01:17 PM IST | Updated on: Feb 13, 2018 01:17 PM IST

نئی دہلی : ملک کے 11 وزرائے اعلی کے خلاف مجرمانہ مقدمات چل رہے ہیں ۔ اس بات کا انکشاف ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس ( اے ڈی آر) نے کیا ہے ۔ اے ڈی آر نے ملک کے 31 وزرائے اعلی کی ایک رپورٹ جاری کی ہے ۔ اس رپورٹ میں ان کے خلاف چل رہے مجرمانہ مقدمات کی معلومات دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فرنویس کے خلاف سب سے زیادہ 22 مجرمانہ کیسز درج ہیں ، جن میں سے تین سنگین جرائم کے کیس ہیں ۔ فہرست کے مطابق سب سے کم ایک ایک کیس بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور جموں و کشمیر کی وزیرا علی محبوبہ مفتی کے خلاف درج ہیں ۔ 31 میں سے 11 وزرائے اعلی کے خلاف کریمنل کیس چل رہے ہیں ، جس میں سے 8 کے خلاف سنگین الزامات ہیں۔

ملک کے 11 وزرائے اعلی کے خلاف مجرمانہ کیس ، مہاراشٹر کے وزیر اعلی فرنویس فہرست میں ٹاپ پر

مہاراشٹر کے وزیر اعلی فرنویس فہرست میں ٹاپ پر ہیں ۔ فائل فوٹو ۔

دیویندر فرنویس ، مہاراشٹر ، بی جے پی : 22 کیس

اس فہرست میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فرنویس کے خلاف سب سے زیادہ مجرمانہ کیسز درج ہیں ۔ فرنویس کے خلاف کچھ سنگین جرائم کے کیس بھی درج بھی ہیں ، ان میں اپنی مرضی سے خطرناک ہتھیاروں یا وسائل سے چوٹ پہنچانا ، غیر قانونی اسمبلی کا حصہ ، دنگا اور دھوکہ دھڑی کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کے ٹوکن کے استعمال کے کیسز شامل ہیں۔

پنارائی وجین ، کیرالہ ، سی پی آئی (ایم) : 11 کیس

کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین کے خلاف کل 11 کیسز درج ہیں ، جس میں سے ایک سنگین آئی پی سی کی دفعہ کے تحت آتا ہے ۔ ان کے خلاف دھوکہ دھڑی اور بے ایمانی سے زمین پر قبضہ ، دنگا اور مجرمانہ سازش جیسے کیسز درج ہیں۔

اروند کیجریوال ، دہلی ، عام آدمی پارٹی : 10 کیس

اس فہرست میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال تیسرے نمبر پر آتے ہیں ۔ ان کے خلاف غیر قانونی اسمبلی کے زیادہ تر الزامات ہیں ۔ ان کے خلاف سرکاری ملازم کے کام کاج میں دخل دینے اور ہتک عزت کے مقدمات بھی درج ہیں۔

رگھوور داس ، جھارکھنڈ ، بی جے پی : 8 کیس

جھارکھنڈ کے وزیر اعلی رگھوور داس کے خلاف آٹھ مجرمانہ معاملات درج ہیں ، جن میں چوٹ پہنچانا ، جرائم کی روک تھام کے معاملہ میں رکاوٹ پیدا کرنا ، سرکاری ملازم کو اپنے فریضہ کی ادائیگی سے روکنا شامل ہیں ۔

کیپٹن امریندر سنگھ ، پنجاب ، کانگریس : 4 کیس

پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ اے ڈی آر کی فہرست میں امیر وزرائے اعلی میں شامل ہیں ۔ ان کے خلاف کئی معاملات درج ہیں ، جیسے دھوکہ دہی اور بے ایمانی سے جائیداد بیچنا اور دھوکہ دھڑی کرنا ۔

یوگی آدتیہ ناتھ ، اترپردیش ، بی جے پی : 4 کیس

اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف چار معاملات درج ہیں ، لیکن یہ سبھی الزمات کافی سنگین ہیں ۔ ان میں بے عزتی ، دنگا اور دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچانے جیسے الزامات شامل ہیں ۔

چندرا بابو نائیڈو : آندھرا پردیش ، ٹی ڈی پی : 3 کیس

آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو 177 کروڑ روپے کی جائیداد کے ساتھ ہندوستان کے سب سے امیر وزیر اعلی ہیں ۔ ان کے خلاف تین مجرمانہ معاملات درج ہیں ۔ حالانکہ اے ڈی آر ان میں سے کسی کو بھی سنگین جرائم کا معاملہ نہیں مانتا ہے۔

کے چندر شیکھر راو ، تلنگانہ ، ٹی آر ایس : 2 کیس

تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو کے خلاف دو مجرمانہ معاملات درج ہیں ۔ اس میں مجرمانہ دھمکی ، سازش اور غیر قانونی اسمبلی جیسے معاملات شامل ہیں۔

وی نارائن سامی ، پڈو چیری ، کانگریس : 2 کیس

پڈوچیری کے وزیر اعلی نارائن سامی کے خلاف صرف دو معاملات درج ہیں۔

محبوبہ مفتی ، جموں و کشمیر ، پی ڈی پی : ایک کیس

جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے خلاف صرف ایک مجرمانہ کیس درج ہے۔ ان کے ایک خلاف صرف ایک کیس ہتک عزت کا ہے۔

نتیش کمار ، بہار ، جے ڈی یو : ایک کیس

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے خلاف صرف ایک کیس درج ہے ۔ لیکن یہ معاملہ کافی سنگین ہے ۔ ان پر آئی پی سی کی دفعہ 302 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے ، جو قتل کا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز