بنارس ہندو یونیورسٹی میں  تشدد معاملہ : 13 طلبہ معطل ، کیمپس میں داخلہ اور ہوسٹل پر روک

Dec 29, 2017 01:01 PM IST | Updated on: Dec 29, 2017 04:09 PM IST

وارانسی: بنارس ہندو یونیورسٹی ( بی ایچ یو) کے ایک طلبہ لیڈر کی گرفتاری کے بعد بھڑکے تشدد کے معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے 13 اسٹوڈنٹس کو معطل کر دیا ہے۔ بی ایچ یو کے اطلاعات و تعلقات عامہ کے افسر ڈاکٹر راجیش سنگھ نے یہاں بتایا کہ کل رات یونیورسٹی کے رجسٹرار (اکیڈمک) کی جانب سے اسٹوڈنٹس کی معطلی سے متعلق ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پوسٹ گریجویٹ کے طالب علم گورو کمار اور پروین رائے، گریجویشن کے شبھم تواری، بٹو کمار سنگھ، غلام سرور، گورو کمار، ابھیجیت مشرا، رودر پرتاپ سنگھ، سوربھ رائے، لکشمی نارائن شرما، ستیم رائے، ہمانشو پربھاکر اور دو سالہ ڈپلومہ کورس کے طالب علم دھیرج سنگھ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان طالب علموں پر لنکا تھانے میں سنگین مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان امور کے تصفیے ہونے تک معطلی کا حکم لاگو رہے گا۔

بنارس ہندو یونیورسٹی میں  تشدد معاملہ : 13 طلبہ  معطل ، کیمپس میں داخلہ اور ہوسٹل پر روک

قابل غور ہے کہ گذشتہ 20 دسمبر کو طالب علم رہنما آشوتوش کی گرفتاری کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں ان پر واقعات میں شامل ہونے کے الزامات ہیں. جس میں ایک اسکول بس میں آگ لگانے سمیت کئی گاڑیوں میں توڑپھوڑ کرنا بھی شامل ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز