سونیا گاندھی کے ظہرانہ میں اپوزیشن میں نظر آیا اتحاد ، ممتا ، مایا ، لالو سمیت 17 غیر این ڈی اے پارٹیوں کے لیڈروں کی شرکت

May 26, 2017 03:55 PM IST | Updated on: May 26, 2017 03:55 PM IST

نئی دہلی: وزیر اعظم مودی کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر اپوزیشن پارٹیوں نے صدارتی انتخابات کے معاملہ پر یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کیا اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کی طرف سے ظہرانے کی ضیافت میں مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی، بہار کے سابق وزیر اعلی اور راشٹریہ جنتا دل سربراہ لالو پرساد یادو اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی سمیت 17 غیر این ڈی اے پارٹیوں کے لیڈروں نے شرکت کی۔

سونیا گاندھی کی طرف سے پارلیمنٹ ہاؤس کی لائبریری میں دیے گئے ظہرانہ میں ممتا، مایاوتی، لالو کے ساتھ ساتھ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی، سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) لیڈر سیتا رام یچوری، سی پی آئیلیڈر ڈی راجہ ، ڈی ایم کے لیڈر ایم کنی موزی ، جنتا دل یونائٹیڈ لیڈر شرد یادو اور کے سی تیاگی نے بھی حصہ لیا ۔کچھ چھوٹی علاقائی پارٹیوں کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھی اس میں شرکت کی۔

سونیا گاندھی کے ظہرانہ میں اپوزیشن میں نظر آیا اتحاد ، ممتا ، مایا ، لالو سمیت 17 غیر این ڈی اے پارٹیوں کے لیڈروں کی شرکت

photo : ANI

جمعہ کو منعقد اس ظہرانہ خاص بات یہ رہی کہ اتر پردیش کی دو اہم مخالف پارٹیوں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو صدارتی انتخابات سے پہلے ایک ساتھ لانے کے کانگریس کی کوشش کامیاب ہوتی نظر آئی۔

خیال رہے کہ ظہرانہ میں یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے صدارتی انتخابات کے لئے اتفاق رائے والے امیدوار کو اتارنے کے امکان کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔ اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس صدارتی انتخابات سے پہلے غیر این ڈی اے جماعتوں کے درمیان وسیع اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جسے گجرات، ہماچل پردیش اور کرناٹک جیسی ریاستوں کے آئندہ اسمبلی انتخابات اور سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات تک آگے بڑھایا جا سکے۔

صدارتی انتخابات کے لئے اپوزیشن کے اتفاق رائے والے امیدوار کے طور پر متعدد ناموں پر بحث چل رہی ہے، جن میں مغربی بنگال کے سابق گورنر اور مہاتما گاندھی کے پوتے گوپال كرشن گاندھی، جے ڈی یو کے سابق صدر شرد یادو، لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار اور این سی پی کے سربراہ شرد پوار شامل ہیں ۔ اگرچہ پوار نے خود کو اس دوڑ سے الگ رکھنے کا پہلے ہی اعلان کر دیا تھا، اور بہار کے وزیر اعلی اور جے ڈی یو لیڈر نتیش کمار ملک کے موجودہ صدر پرنب مکھرجی کو ہی دوسری میعاد دئے جانے کی وکالت کرچکے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز