Live Results Assembly Elections 2018

سری نگر میں ڈی ایس پی ایوب پنڈت قتل معاملے میں 20 افراد گرفتار

جموں و کشمیر کے سرینگر میں تاریخی جامعہ مسجد کے باہر ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایس پی) ایوب پنڈت کے قتل معاملے میں 20 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

Jul 24, 2017 02:55 PM IST | Updated on: Jul 24, 2017 02:55 PM IST

سرینگر۔ جموں  و کشمیر کے سرینگر میں تاریخی جامعہ مسجد کے باہر ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایس پی) ایوب پنڈت کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا ۔ اس معاملے میں 20 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آئی جی منیر احمد خان نے آج یہاں پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں کے راستے کو اختیار کرنے والا ایک ملزم سجاد گلكر 29 جون سے لاپتہ تھا اور وہ 12 جولائی کو بڈگام میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے تصادم میں مارا گیا تھا۔

مسٹر ایوب پنڈت کو 23 اور 24 جون کی درمیانی رات میں ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس واقعہ کی رات جامعہ مسجد پر لوگوں سے خطاب کرنے والے حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے چیئرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی، تو انهوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو ہر شخص سے پوچھ گچھ کی جائے گی ۔ مسٹر خان نے کہا کہ اس معاملے میں ابھی تحقیقات جاری ہے اور اس سلسلے میں مزید گرفتاریاں ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مسٹر خان نے بتایا کہ مسٹر ایوب پنڈت پولیس کی خفیہ محکمہ کے تحت شب قدر میں عبادت کے لئے جامعہ مسجد آنے والوں کی حفاظت میں تعینات تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر پنڈت جیسے ہی مسجد سے باہر آئے تو شرپسندوں کے ایک گروپ نے ذاکر موسی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے حریت کے اعتدال پسند دھڑے کے سربراہ میر واعظ مولوی عمر فاروق کے استقبال کے لئے جمع ہو گیا۔

سری نگر میں ڈی ایس پی ایوب پنڈت قتل معاملے میں 20 افراد گرفتار

آئی جی منیر احمد خان نے آج یہاں پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں کے راستے کو اختیار کرنے والا ایک ملزم سجاد گلكر 29 جون سے لاپتہ تھا اور وہ 12 جولائی کو بڈگام میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے تصادم میں مارا گیا تھا۔

پولیس افسر پر حملہ منصوبہ بند ہونے کے سوال پر مسٹر خان نے بتایا کہ مسجد سے چار افراد باہر آئے اور مسٹر پنڈت سے ان کا شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ مسٹر پنڈت نے جب شناختی کارڈ دکھانے سے منع کیا تب ان لوگوں نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔

آئی جی نے کہا کہ بھیڑ کی جانب سے پیٹ پیٹ کر قتل کرنا کشمیری ثقافت کے برخلاف ہے۔ اگرچہ یہ اطمینان بخش اور حوصلہ افزا ہے کہ پولیس افسر کے قتل کی تمام لوگوں نے مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کے لئے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کی گئی ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز