دہلی سیریل بم دھماکہ کیس : باعزت بری ہوکر گھر پہنچے حسین فاضلی کا سنسنی خیز انکشاف: پولیس نے جبرا کھلایا پاخانہ ، 200 سادہ کاغذوں پر کرائے دستخط

Feb 22, 2017 02:52 PM IST | Updated on: Feb 22, 2017 02:53 PM IST

سرینگر: دہلی سیریل بم دھماکوں کے ملزم محمد حسین فاضلی 12 سال کے بعد بری ہونے کے بعد جموں و کشمیر کے سری نگر میں واقع اپنے گھر پہنچے۔ انہوں نے ایک انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس سے بات چیت میں متعدد انکشافات کئے ہیں۔ پولیس حراست کے 50 دنوں کو لے کر انہوں نے بتایا کہ دہلی پولیس نے ذہنی سے لے کر جسمانی تشدد تک کا ہر طریقہ اپنایا ۔ تاکہ ہم سچ عدالت میں نہ بتائیں۔خیال رہے کہ فاضلی کے ساتھ ساتھ اس کیس کے دیگر ملزم محمد رفیق شاہ کو بھی گزشتہ ہفتہ دہلی کورٹ نے باعزت بری کر دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دہلی پولیس ان کے منہ میں پاخانہ ڈال کر روٹی رکھ کر پانی ڈالتے تھے ، تاکہ وہ اس کو نگل لیں۔ ساتھ ہی پولیس نے ان پر 200 سادہ کاغذوں پر بھی دستخط کرنے کے لئے کہا۔ بنکر کا کام کرنے والے فاضلی نے کہا کہ انہیں پولیس حراست سے کورٹ لے جانے سے پہلے ہی اذیتیں شروع ہو گئی تھیں۔

دہلی سیریل بم دھماکہ کیس : باعزت بری ہوکر گھر پہنچے حسین فاضلی کا سنسنی خیز انکشاف: پولیس نے جبرا کھلایا پاخانہ ، 200 سادہ کاغذوں پر کرائے دستخط

ہم جیسے ہی دہلی پہنچے، ہمیں لودھی کالونی میں واقع پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ ایک بینچ سے میرے ہاتھ باندھ دیے گئے اور اس پر لیٹنے کیلئے کہا گیا۔ اس کے بعد دو پولیس والے میرے پاؤں پر کھڑے ہو گئے اور ایک میرے پیٹ پر چلنے لگا۔ ایک اور پولیس والے نے مجھے ڈٹرجنٹ والا پانی پلا دیا۔

انہون نے بتایا کہ نومبر 2005 کی وہ رات کافی سرد تھی، وہ مسجد سے نماز پڑھ کر گھر واپس آ رہا تھا ، اسی دوران پولیس کی ٹیم اس کے پاس آئی ، دہلی دھماکہ کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لئے لے کر گئی۔ وہ آخری دن تھا ، جب اس کے ماں باپ نے اسے دیکھا تھا۔ اس کے بعد پھر 12 سال بعد وہ ان سے ملا۔

فاضلی نے مزید بتایا کہ جب انہیں شام کو عدالت لے جایا جا رہا تھا ، تو دھمکی دی گئی کہ جج سے کوئی بھی سچائی نہ بتائی جائے۔ جج صاحب کے سامنے کچھ بولنے کی ہمت مت کرنا اور اگر ایسا کیا ، تو اس سے بھی برا حشر ہوگا۔ فاضلی کے مطابق ان کی 50 دن کی ریمانڈ ختم ہونے پر انہیں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز