سات سالوں تک کھلی عدالت میں بیٹھ کر انتظار کرتا رہا ، مگر کوئی ثبوت لے کر پہنچا ہی نہیں : جج او پی سینی

ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھپلہ معاملہ کے سبھی ملزمان کو بری کرنے والے سی بی آئی کے خصوصی جج او پی سینی نے اس معاملہ میں جانچ ایجنسی کے ذریعہ کوئی ثبوت پیش نہ کئے جانے پر افسوس ظاہرکیا۔

Dec 21, 2017 11:43 PM IST | Updated on: Dec 22, 2017 12:08 AM IST

نئی دہلی: ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھپلہ معاملہ کے سبھی ملزمان کو بری کرنے والے سی بی آئی کے خصوصی جج او پی سینی نے اس معاملہ میں جانچ ایجنسی کے ذریعہ کوئی ثبوت پیش نہ کئے جانے پر افسوس ظاہرکیا۔ مسٹر سینی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’ٹوجی گھپلہ سے متعلق معاملوں میں پوری تندہی سے سات سال کا وقت دینے کے باوجود سی بی آئی نے انکے سامنے قانونی طور پر قابل قبول کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ‘‘۔

انھوں نے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ جانچ کئے گئے تین معاملوں میں ٹیلی مواصلات کے سابق وزیر اے راجہ ،ڈی ایم کے کی رکن پارلیمان این کنی موئی اور 17دیگرملزمان کو بری کرنے کے اپنے فیصلے کے دوران یہ تبصرہ کیا ۔ خصوصی جج نے کہا کہ ’’میں یہ بھی جوڑنا چاہتاہوں کہ گزشتہ تقریبا سات سال میں ،گرمیوں کی چھٹیوں سمیت کام کاج کے سبھی دنوں میں پوری قوت سے صبح 10بجے سے شام 5بجے تک کھلی عدالت میں اس انتظار میں بیٹھارہا کہ کوئی قانونی طور پر قابل قبول ثبوت لیکر آئیگا، لیکن سب بیکار چلاگیا۔‘‘

سات سالوں تک کھلی عدالت میں بیٹھ کر انتظار کرتا رہا ، مگر کوئی ثبوت لے کر پہنچا ہی نہیں : جج او پی سینی

ٹوجی گھپلہ جانچ سے منسلک معاملوں پر الگ سے سماعت کے لئے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 14مارچ 2011کو خصوصی جج کی عدالت قائم کی گئی تھی ۔عدالت نے کہا ’’ایک بھی شخص سامنے نہیں آیا ۔اس سے اشارہ ملتاہے کہ ہرکوئی افواہ ،بات چیت اور قیاس آرائیوں پر یقین کررہاتھا۔حالانکہ عدالت میں عام نظریہ کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔‘‘

اس گھپلہ کی وجہ سے کانگریس کی قیادت والی ترقی پسند اتحاد حکومت کو 2014میں شکست کا سامناکرنا پڑاتھا۔یہ مبینہ گھپلہ کمپٹرولر اور آڈیٹرجنرل (کیگ)کی 2010کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ،جس میں دعوی کیا گیاتھا کہ ٹیلی مواصلات کی وزارت کے ذریعہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹ کرنے اور کچھ کمپنیوں کو کم قیمت پر لائسنس دینے سے سرکاری خزانہ کو ایک لاکھ 76ہزارکروڑ روپئے کا نقصان ہواہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز