سیمی سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار پانچ مسلم نوجوان 11 سال کے بعد عدالت سے باعزت بری

Mar 05, 2017 02:21 PM IST | Updated on: Mar 05, 2017 02:21 PM IST

اسلامک موومنٹ آف انڈیا سیمی کےمبینہ 5 کارکنوں کو ایک سیشن عدالت نے 11 سال کے طویل عرصہ کے بعد باعزت بری کر دیا ہے۔ ان پر لشکر طیبہ سے مبینہ تعلقات کے ساتھ سال 2006 کے ممبئی سیریل ٹرین دھماکوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا تھا ۔دی سیاست ہندی ڈاٹ کام کی ایک خبر کے مطابق سیشن عدالت کے مجسٹریٹ نے عرفان علی انجمن سید، محمد نجیب عبد الراشد باكلي، فیروز عبدا لطیف گھاسوالا، محمد علی محمد چاند اور عمران نثار احمد انصاری کو باعزت بری کرتے ہوئے کہا کہ کرائم برانچ (ڈی سی بی سی آئی ڈی یونٹ 11) نے معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

ساتھ ہی ساتھ جج نے اعتراف کہ استغاثہ کالعدم تنظیم سیمی کے ارکان پر لگائے سبھی الزامات کو ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام رہا۔ ان ملزمان پر خفیہ اجلاسوں میں شرکت اور آپریشن کرنے کے علاوہ گجرات کے گودھرا سانحہ کے بعد بھڑے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات کے دوران اشتعال انگیز کلپ پھیلانے جیسے الزامات عائد کئے گئے تھے ، جنہیں استغاثہ ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام رہا۔

سیمی سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار پانچ مسلم نوجوان 11 سال کے بعد عدالت سے باعزت بری

بری کئے گئے افراد میں سے ایک فیروز گھاسوالا پر آر ڈی ایکس رکھنے کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔ تفتیشی ایجنسیوں نے ملزموں کو ٹرین دھماکوں کے بعد گرفتار تھا ، جس میں 189 افراد ہلاک اور 829 افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایجنسی نے سیمی پر دھماکوں کو انجام دینے کا الزام عائد کیا تھا۔پولیس نے اس دوران کئی گرفتاریاں کی تھی ، جس میں یہ 5 کارکنان بھی شامل تھے۔

یہ بھی دعوی کیا گیا تھا کہ ٹرین دھماکوں کے فرار ملزم راحیل شیخ کے ساتھ گھاسوالا غیر قانونی طور پر پاکستان گیا تھا اور وہاں ان کو بم بنانے اور اے کے 47 چلانے کی ٹریننگ لشکر طیبہ نے دی تھی۔ سعید اور باكلي کو ان کی واپسی کے بعد گھاسوالا نے مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب مواد سے بم بنانے کی تربیت دی تھی ۔ تاہم ایجنسی کے یہ سبھی دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے اور اپنے دعووں کی حمایت میں ایجنسی عدالت میں کوئی بھی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کرسکی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز