مراد آباد : یوگی حکومت میں ظلم و ستم سے پریشان 50 دلت کنبوں کی اسلام قبول کرلینے کی دھمکی ، مورتیاں کیں دریا برد

May 14, 2017 09:38 PM IST | Updated on: May 14, 2017 09:38 PM IST

مرادآباد :  اترپردیش کے مراد آباد میں ریجنل ٹرانسپورٹ دفتر پر فرسٹ ایڈ باکس کٹ کے کنٹریکٹ کے سلسلے میں چار دن پہلے دو دھڑوں میں ہونے والی فائرنگ اور مارپیٹ کے نامزد ملزم سمیت بالميكی سماج کے پچاس لوگوں نے ہند و مذہب ترک کرکے اسلام مذہب قبول کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ہندوستانی بالميكی دھرم سماج کے قومی چیف کنوینر للا بابو دراوڑ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت بننے کے بعد دلت سماج کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ دلت ظلم و ستم سے تنگ آکر یہاں قریب پچاس خاندان ہندو مذہب سے الگ تھلگ ہو گئے ہیں اور انہوں نے تبدیلئی مذہب کے اعلان کے بعد دیوی دیوتاؤں کی مورتی جگر کالونی کے قریب رام گنگا دریا میں دریا برد کر دی۔

دوسرا مذہب اپنانے کی ضد پر قائم للا بابو سے جب صحافیوں نے سوال کیا کہ دوسرا مذہب اپنانے پر ان کا ایس سي ایس ٹي کا درجہ ختم ہونے پر حاصل ہونے والی سہولت خود بخود ختم ہو جاےگي، اس پر انہوں نے خاموش اختیار کر لی۔ دریں اثنا، پولیس سپرنٹنڈنٹ (شہر) اشیش شریواستو نے بتایا کہ قانون کی نظر میں جو بھی مجرم ہوگا اسے کسی بھی قیمت پر بخشا نہیں جائے گا۔بلدیہ کے سبکدوش صفائی اہلکار للا بابو دراوڑ کا بیٹا وشال ڈراوڈ سمیت تیس پینتیس لوگوں نے گذشتہ نو مئی کو آر ٹی او آفس کے باہر نقل و حمل محکمہ کی طرف سے ریڈ کراس میڈیکل کٹ گاڑیوں میں لگانے کے کنٹریکٹ حاصل کئے جانے کو لے کر آپس میں فائرنگ اور مارپیٹ کی تھی جس کے بعد وہاں بھگدڑ مچ گئی تھی۔

مراد آباد : یوگی حکومت میں ظلم و ستم سے پریشان 50 دلت کنبوں کی اسلام قبول کرلینے کی دھمکی ، مورتیاں کیں دریا برد

اس سلسلے میں سدھانشو بھارتی کی تحریر پر 35 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کرایا گیا ہے۔ نامزد ملزمان میں سے ایک دلت ظلم و ستم سے تنگ آکر تبدیلی مذہب کرنے والوں میں شامل للا بابو دراوڑ کا بیٹا وشال دراوڑ بھی ہے۔ پولیس کے مطابق نامزد ملزمان میں وشال کے سوائے زیادہ تر برہمن ذات کے لوگ ہیں۔ ایسے میں اکیلے صرف دلت استحصال کا الزام بے بنیاد ہے۔ الزام ہے کہ ٹھیکیداری وغیرہ میں ڈراوڈ، دلت ظلم و ستم کے الزام لگا کر بلیک میل کرنے کے لئے دوسرے لوگوں کی طرف سے پارٹنر بنایا جاتا رہا ہے۔ پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے ضلعی صدر ہری اوم شرما کے مطابق ڈراوڈ خاندان نے غصہ میں آکر یہ بیان دیا ہے، وہ بی جے پی کا خاندان ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز