اترپردیش : بلدیاتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں 52 فیصد ووٹنگ

Nov 26, 2017 09:20 PM IST | Updated on: Nov 26, 2017 09:20 PM IST

لکھنؤ: ووٹر لسٹ سے بہت سارے ناموں کے غائب رہنے اور ہنگامہ آرائی کے درمیان چھوٹے موٹے واقعات کو چھوڑکر اترپردیش میں بلدیاتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں آج 25 ضلعوں میں تقریبا 52 فیصد ووٹنگ ہوئی جو سال 2012 کے مقابلے تقریبا آٹھ فیصد زیادہ ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی، مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے پارلیمانی علاقے لکھنؤ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے بانی ملائم سنگھ یادو کے آبائی شہر اٹاوہ سمیت مختلف علاقوں میں زبردست حفاظتی انتظامات کے درمیان لوگوں نے لائن میں لگ کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس دوران کئی ووٹنگ سینٹر پر ووٹنگ فہرست سے نام غائب رہنے اور فرضی ووٹنگ کے نام پر ہنگامہ آرائی کے ساتھ سلامتی فورس کے ساتھ دھکا مکی ہوئی جبکہ اکا دعلاقوں میں الیکٹرونک مشین (ای وی ایم) کے خراب ہونے کی وجہ سے ووٹنگ کچھ عرصے کے لئے متاثر رہی۔

ریاستی الیکشن کمیشن ایس کے اگروال نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں ایک کروڑ 29 لاکھ ووٹروں میں سے اوسطا 52 فیصد نے ووٹ ڈالا۔ لکھنؤ میںٰ تقریبا 2ء34 فیصد، فرخ آباد میں 88۔68 فیصد، بلیا میں 26۔60 فیصد، علی گڑھ میں 47، مین پوری میں 60 فیصد اور وارانسی میں 44 فیصدی لوگوں نے ووٹ ڈالا۔

اترپردیش : بلدیاتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں 52 فیصد ووٹنگ

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخاب میں سال 2012 میں ہوئے ووٹنگ کے مقابلے میں اس بار تقریبا آٹھ فیصد لوگوں نے زیادہ حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ سال 2012 میں ووٹنگ فیصد 67ء43 تھا۔شہروں میں لوگوں نے کم ہی حق رائے دہی کا استعمال کیا جبکہ دیہی علاقوں میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر ووٹنگ میں حصہ لیا۔ الہ آباد میں گزشتہ الیکشن میں 2ء27 فیصد لوگوں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا جو اس بار بڑھ کر 30 سے 32 فیصد ہوگیا ۔ لکھنؤ کے ووٹروں میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز