سہارنپور تشدد : افواہ پھیلانے والے 90 فیصد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھیم آرمی سے وابستہ

Jun 02, 2017 03:53 PM IST | Updated on: Jun 02, 2017 03:53 PM IST

سہارنپور : گزشتہ ماہ ایک معمولی سے بات کو لے کر سہارنپور میں بھڑکا تشدد اب نسلی تشدد میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ٹھاکروں اور دلتوں کے درمیان شروع لڑائی کے شعلوں میں اب تک سہارنپور کئی مرتبہ جھلس چکا ہے ۔ اس تشدد کو بھڑکانے میں سوشل میڈیا نے بھی کافی اہم رول ادا کیا ہے ۔ گزشتہ آٹھ دنوں سے ضلع میں انٹرنیٹ سروس بند ہے، اس کے باوجود پولیس کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات نے سہارنپور کو سلگانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

ضلع کے ایس ایس پی ببلو کمار کے مطابق پولیس نے گزشتہ ہفتہ سوشل میڈیا کے خلاف مہم چلائی تھی ۔ ایس ایس پی کے مطابق سوشل میڈیا پر 90 فیصد اکاؤنٹس جن سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ، وہ بھیم آرمی سے وابستہ ہیں۔ ببلو کمار نے کہا کہ ہمارے جانچ میں پتہ چلا ہے کہ تشدد بھڑکانے میں سوشل میڈیا کا استعمال کیا گیا تھا ۔ اشتعال انگیز مسیجپھیلانے کے لئے فیس بک ، ٹویٹر اور وہاٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کیا گیا ، ہم نے 74 فیس بک پروفائل، 35 ٹویٹر هینڈل اور 32 یو ٹیوب اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے ، جن سے افواہیں پھیلائی گئی ہیں۔

سہارنپور تشدد : افواہ پھیلانے والے 90 فیصد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھیم آرمی سے وابستہ

انہوں نے کہا کہ ٹیگ پروفائلس اور اکاؤنٹس میں بہت کم ہی ایسے ہیں ، جن پر اصلی مواد ہے، ان میں سے اکثر یا تو متنازع پوسٹ شیئر کئے گئے ہیں یا ان پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کسی کو بھی گرفتار کرنے میں کسی طرح کا امتیاز نہیں برت رہے ہیں ۔ ہم نے 20، 30 اکاؤنٹس نشان زد کئے ہیں ، جن کے ذریعے اشتعال انگیز پیغامات پھیلائے گئے۔

ایس ایس پی نے کہا کہ جتنے بھی پروفائلس ہمارے نوٹس میں آئے ہیں ، ان میں سے زیادہ تر چندرشیكھر آزاد کے دلت گروپ بھیم آرمی سے وابستہ ہیں ۔ ان میں ٹھاکروں کے صرف دو پروفائل ہی ہیں جن کےذریعہ افواہ پھیلائی گئی ۔ لیکن ہمیں اگر اور بھی ایسے اکاؤنٹس ملتے ہیں تو ہم ان کے خلاف سخت ایکشن لیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز