صدارتی انتخابات : 99 فیصد ووٹنگ ، 20 جولائی کو ہوگا نئے صدر جمہوریہ کا اعلان

Jul 17, 2017 09:20 PM IST | Updated on: Jul 17, 2017 09:20 PM IST

نئی دہلی: ملک کے اولین شہری اور اعلی ترین عہدے کے لئے 14 واں صدر جمہوریہ منتخب کرنے کے لئے پورے وطن کے قانون ساز عوامی نمائندگان نے آج انتخابی مراکز پر حاضر ہوکر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرکے رخصت پذیر صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے جانشین کی قسمت کا فیصلہ کیا۔ صدارتی انتخابات کے لئے ووٹ ڈالنے میں اتر پردیش، مغربی بنگال اور بہار کے قانون سازوں نے زیادہ جوش و خروش دکھایا۔ صدارتی الیکشن کے لغے قومی جمہوری محاذ (این ڈی اے) کے امیدوار رام ناتھ کووند اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار محترمہ میرا کمار کے خلاف میدان میں تھے۔ ووٹوں کی گنتی کی تاریخ 20 جولائی کو رکھی گئی ہے۔ صدر جمہوریہ مسٹر پرنب مکھرجی کی مدت کار 24 جولائی کو ختم ہورہی ہے اور 25 جولائی کو نئے صدر جمہوریہ عہدہ سنبھالیں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی، کانگریس صدر سونیا گاندھی، نائب صدر راہل گاندھی اور بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی ، سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ پہلے ووٹ دینے والوں میں شامل ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ نے بھی پارلیمنٹ میں ووٹ ڈالا۔

صدارتی انتخابات : 99 فیصد ووٹنگ ، 20 جولائی کو ہوگا نئے صدر جمہوریہ کا اعلان

تقریباً 99فیصد ووٹنگ

عہدہ صدارت کے لیے ہونے والے الیکشن میں تقریباً 99فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ صدارتی الیکشن کے لیے ریٹرننگ افسر لوک سبھا کے سکریٹری جنرل انوپ مشرا نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سب سے پہلے پارلیمنٹ کے احاطے میں پہلا ووٹ ڈالا۔ اس کے بعد دیگر سینئر لیڈروں نے اپنے ووٹ ڈالے۔

شیو پال یادو کی کراس ووٹنگ

اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کے لیڈر شیو پال یادو کی کراس ووٹنگ کی بازگشت دن بھر سنائی دی ، جہاں کل 403 اراکین اسمبلی کے 80 فیصد نے دوپہر بعد تک ووٹ دے دیا تھا۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو کے چچا شیو پال یادو اکیلے ووٹ دینے پہنچے ۔ بعد میں انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے مسٹر رام ناتھ کووند کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ مسٹر شیو پال یادو نے کہا کہ مسٹر کووند سیکولر شخصیت ہیں۔ میں اور نیتا جی نے (ملائم سنگھ یادو) دیگر متعدد اراکین کے ساتھ انہیں حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اپوزیشن کی امیدوار میرا کمار کو حمایت دینے کے لئے سماجوادی پارٹی کے فیصلہ کرنے سے پہلے ہم سے کوئی بات چیت نہیں کی گئی تھی۔ الیکشن میں مسٹر کووند کی جیت ہونے والی ہے۔

ریاستوں میں بھی ڈالے گئے ووٹ

یو پی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پہلے ووٹ ڈالنے والوں میں شامل ہيں، جہاں متعدد اراکین اسمبلی ان کے ہمراہ صبح دس بجے سے پہلے ہیں پہنچ گئے تھے۔ یوپی اسمبلی کے احاطے میں دوپہر تک اراکین اسمبلی کی طویل قطار دیکھی گئي ، جہاں حکام نے ممبران کو یکے بعد دیگر ووٹ ڈالنے کی اجازت دی۔

مدھیہ پردیش میں سہ پہر تین بجے تک تمام 228 اراکین اسمبلی نے اپنے حق رائے دہی استعمال کیا، جہاں پولنگ شروع ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر اجے سنگھ نے سب سے پہلے ووٹ دیا، جبکہ وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے تقریبا ساڑھے دس بجے اپنا ووٹ دیا اور بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر بلویر سنگھ نے سب سے آخر میں ووٹ ڈالا۔

ہماچل پردیش میں وزیر اعلی ویر بھدر سنگھ، اپوزیشن لیڈر پریم کمار ڈھومل، اسپیکر بریج بہاری لال سمیت 67 اراکین نے دوپہر سے پہلے ہی ووٹ دیا۔

چھتیس گڑھ میں کانگریس کے باغی ایم ایل اے امیت جوگی کو چھوڑ کر وزیر اعلی ڈاکٹر رمن سنگھ سمیت تمام 90 اراکین نے دوپہر دو بجے تک اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

جموں و کشمیر اسمبلی میں وزیر اعلی سمیت 87 اہل اراکین اسمبلی نے ووٹ ڈالا، جن میں وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور اپوزیشن لیڈر عمر عبداللہ پہلے ووٹ دینے والوں میں شامل تھے۔

مغربی بنگال میں وزیر اعلی ممتا بنرجی کی درخواست پر ترنمول کانگریس، بایاں محاذ اور کانگریس کے ارکان نے اپوزیشن کی امید وار میرا کمار کو حمایت دیا، جہاں ووٹ ڈالنے کے بعد ایک کانگریسی ایم ایل اے کی طبیعت ناساز ہوگئی۔

پٹنہ میں ریاستی اسمبلی کے احاطے میں صبح دس بجے ہی ووٹنگ کا آغاز ہوا ، جہاں بی جے پی کے ایم ایل اے سنجے سروگی نے سب سے پہلے ووٹ ڈالا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز